مسخرے کےلباس میں قاتل،78 سالہ بزرگ کو چاقو کے وار سےقتل کردیا
امریکی ریاست الینوائے میں مسخرے کے لباس میں ملبوس 15 سالہ لڑکے نے 78 سالہ بزرگ کو تیز دھار چاقو کے وار کرکے قتل کردیا، جبکہ واقعے سے قبل گھروں کے باہر گھومنے اور دھمکی آمیز سرگوشیاں کرنے کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق لڑکے نے پہلے مختلف گھروں کے باہر جا کر لوگوں کو خوفزدہ کیا، پھر بس اسٹاپ پر موجود بزرگ جان ویزلی ایلن سینئر پر حملہ کیا۔
الینوائے پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شب ایسٹ سینٹ لوئس میں پیش آیا۔ مقتول بس اسٹاپ پر اپنی بہن سے ملاقات کے لیے بس کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک مسخرے کے لباس میں ملبوس نوعمر لڑکا ان پر حملہ آور ہوگیا اور چاقو کے متعدد وار کرکے انہیں قتل کردیا۔
پولیس نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ایک گھر کی رِنگ ڈور بیل کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو میں مشتبہ لڑکا نظر آیا۔ ویڈیو میں وہ ڈھیلے ڈھالے سیاہ اور سرخ مسخرے کے لباس میں گھر کے دروازے کے قریب آتا ہے اور کیمرے کے سامنے جھک کر سرد لہجے میں کہتا ہے، “میں تمہیں ڈھونڈ رہا ہوں۔”
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور دیکھنے والوں نے اسے ہارر فلم کا منظر قرار دیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ یہ ایک حقیقی قتل کے ملزم کی ویڈیو تھی۔
مقامی رہائشیوں نے پولیس کو بتایا کہ مسلح مشتبہ لڑکا مسخرے کا لباس پہنے محلے کے مختلف گھروں کے درمیان گھوم رہا تھا اور کھڑکیوں سے اندر جھانکنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ایک خاتون کے بیٹے لی پالمر نے پولیس کو بتایا کہ اگر اس کی والدہ نے دروازہ کھول دیا ہوتا تو ممکنہ طور پر وہ بھی حملے کا شکار ہو جاتیں۔
پولیس نے لاش ملنے کے بعد نگرانی کیمروں اور ڈور بیل ویڈیوز کی مدد سے مشتبہ لڑکے کی شناخت کی اور چند گھنٹوں کے اندر اسے ایک گھر سے گرفتار کرلیا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف فرسٹ ڈگری قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم نابالغ ہونے کی وجہ سے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
مقتول کون تھا؟
78 سالہ جان ویزلی ایلن سینئر امریکی بحریہ کے سابق اہلکار اور ریٹائرڈ بس ڈرائیور تھے۔
اہل خانہ کے مطابق وہ پیر کے روز وی اے اسپتال میں طبی معائنے کے بعد اپنی بہن سے ملنے جا رہے تھے، لیکن منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ایک اجنبی کے حملے کا نشانہ بن گئے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بظاہر ایک بے ترتیب حملہ معلوم ہوتا ہے اور مقتول کا ملزم سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔
حکام سوشل میڈیا، مزید نگرانی کی ویڈیوز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ حملہ آور نے واردات کی پہلے سے منصوبہ بندی کی تھی یا نہیں۔
PNP
Comments are closed.