بھارت نے اسرائیل سے دفاعی معاہدے کی خبر جعلی قرار دے دی
نئی دہلی: بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے ردعمل میں اسرائیل سے نئے دفاعی معاہدے کی درخواست سے متعلق وائرل دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے جعلی خبر قرار دے دیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ دعویٰ ایک ترک میڈیا ادارے کی رپورٹ سے سامنے آیا تھا، جس میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا گیا کہ بھارت نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کے مقابلے کے لیے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
یہ رپورٹ بعد ازاں سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئی، جس کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے حقائق کی جانچ کرنے والے شعبے نے اس خبر کا جائزہ لیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے فیکٹ چیک شعبے نے رپورٹ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل سے کسی نئے دفاعی معاہدے کی درخواست کیے جانے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی معاہدے سے متعلق بھارتی حکومت کے مؤقف پر بھی روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے متعلق پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس معاملے کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق بھارت اس حوالے سے سامنے آنے والی پیش رفت سے میڈیا کو آگاہ کرتا رہے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک کے خلاف مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں ہونے والے مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کی نمائندگی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کی نمائندگی صدر رجب طیب اردوان جبکہ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف نے کی۔
دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں سکیورٹی تعاون اور اس کے ممکنہ اثرات پر مختلف حلقوں کی جانب سے توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ بھارت کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے ساتھ نئے دفاعی معاہدے سے متعلق وائرل دعوے کی باضابطہ تردید کردی ہے۔
PNP
Comments are closed.