جوہری مواد ہٹانے کے لیے امریکا اور اسرائیل کے شام سے مذاکرات کامیاب
نیویارک: امریکا، اسرائیل اور شام کے درمیان شام میں موجود مبینہ جوہری مواد سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد خفیہ مقام پر موجود مواد کو وہاں سے منتقل کرنے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ، شام اور اسرائیل کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی شام کے ایک خفیہ مقام پر موجود جوہری مواد کو اپنی تحویل میں لے گی۔
رپورٹ کے مطابق شام میں ’’سائٹ 99‘‘ نامی خفیہ مقام پر موجود جوہری مواد ایک عرصے سے امریکا اور اسرائیل کی تشویش کا باعث بنا ہوا تھا۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کو خدشہ تھا کہ یہ مواد سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ماضی میں بشار الاسد حکومت پر خفیہ جوہری پروگرام چلانے اور الکِبار ری ایکٹر قائم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اسرائیل نے 2007 میں الکِبار کے مقام پر فضائی حملہ بھی کیا تھا۔
بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو شام کے جوہری مقامات تک رسائی حاصل ہوئی، جس کے بعد خفیہ مقامات پر موجود مواد کے حوالے سے تحقیقات اور سفارتی رابطوں میں تیزی آئی۔
امریکی حکام کے مطابق شام میں موجود جوہری مواد کے معاملے پر امریکا، اسرائیل اور شام کے درمیان کئی ماہ تک پسِ پردہ سفارتی رابطے جاری رہے۔ اسرائیل نے مبینہ طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر جوہری مواد کو وہاں سے منتقل نہ کیا گیا تو سائٹ 99 کے خلاف دوبارہ کارروائی کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ سائٹ 99 کے خلاف کسی نئی کارروائی سے گریز کرے۔ اسرائیلی خدشات کے بعد عالمی جوہری توانائی ایجنسی کو معاملے میں شامل کیا گیا تاکہ مواد کو محفوظ طریقے سے اپنی تحویل میں لیا جاسکے۔
امریکی حکام کے مطابق اسرائیلی حکام کو یہ خدشہ بھی تھا کہ ترکیہ شام کو مذکورہ مقام سے جوہری مواد حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرسکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شام کی موجودہ حکومت نے جوہری مواد تک رسائی اور اسے محفوظ بنانے کے عمل میں تعاون کیا ہے۔ تاہم مواد کی منتقلی کے حتمی طریقہ کار اور وقت کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
PNP
Comments are closed.