by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آبنائے ہرمز پر اختلافات طول پکڑ گئے،خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد بڑھ گئیں

لندن: امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگیا۔

رپورٹس کے مطابق عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 5 فیصد اضافے کے بعد 87.72 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں تقریباً 5.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 82.13 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت بحال کرنے کے حوالے سے اب تک کوئی حتمی اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹ میں حالیہ تیزی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی رسد کو متاثر کرسکتی ہے۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں معمول پر آنے میں مزید تاخیر ہوئی تو توانائی کی عالمی فراہمی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز کے حوالے سے مثبت پیش رفت کی امید کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تھی، تاہم مذاکرات میں تعطل کے خدشات کے بعد سرمایہ کار دوبارہ محتاط ہوگئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کا اثر صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی تجارت، بحری نقل و حمل اور شپنگ انشورنس کے اخراجات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں خام تیل کی قیمتوں کا رخ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت اور خطے کی مجموعی صورتحال سے طے ہوگا۔ کشیدگی کم ہونے اور محفوظ بحری راستہ بحال ہونے کی صورت میں قیمتوں میں دوبارہ کمی آسکتی ہے، جبکہ صورتحال مزید بگڑنے پر تیل مزید مہنگا ہونے کا خدشہ ہے۔

PNP

Comments are closed.