صوبے کی بات کفر نہیں ، نظام نوجوانوں کو غدار بنا رہا ہے، حالات سے تنگ لوگ ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر بیٹھ گئے ہیں: مصطفیٰ کمال
کراچی ( پی این پی ) وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ صوبے کی بات کفر نہیں، طریقے پر بات ہو سکتی ہے۔ نظام نوجوانوں کو غدار بنا رہا ہے، حالات سے تنگ لوگ ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر بیٹھ گئے ہیں۔
’’ جیو نیوز ‘‘ کے مطابق ائیرپورٹ سیںٹرل گورنمنٹ ڈسپنسری کو اپ گریڈ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا یہ ڈسپنسری ایک سیکنڈری ہسپتال بننے جارہی ہے، یہ ہسپتال 40 بستروں پر مشتمل ہوگا جس میں تمام سہولیات میسر ہوں گی، 66 کروڑ روپے کی لاگت سے ہسپتال 4 ماہ میں مکمل ہوگا، ہسپتال میں 24 گھنٹے ایمرجنسی کی سروس ہوگی۔ یہاں کے لوگوں کو ایکسرے اور دیگر چیزوں کے لیے دور نہیں جانا پڑے گا، پروجیکٹ منظور کروانا وفاقی حکومت سے پیسے لینا آسان نہیں، اس کی مینجمنٹ کے حوالے سے نجی سیکٹر کو،آن بورڈ لوں گا، ڈسپنسریاں توسیع کرنے کے منصوبوں کے لیے 2 ارب 86 کروڑ روپے کے فنڈز وفاقی حکومت سے حاصل کیے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا ملک میں 1 کروڑ 10 لاکھ ہیپاٹاٹس سی کے مریض ہیں، بہت سے لوگوں کی سکریننگ ہی نہیں ہوئی، سندھ میں 80 فیصد لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، دوران زچگی 11 ہزار مائیں انتقال کر جاتی ہیں، سال میں 4 لاکھ بچوں کی اموات ہوتی ہیں، ہر تیسرا شخص شوگر کا مریض ہے، ہم آج بھی پولیو زدہ ممالک کہلاتے ہیں، 68 فیصد امراض گندا پانی پینے سے ہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا ہمارے کوٹے پر جعلی ڈومیسائل بناکر ملازمت پر قبضہ کیا جاتا ہے، شہری سندھ کےکسی ایک نوجوان کو سرکاری ملازمت نہیں دی گئی۔ذمہ داری ملی تو عوام کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کی، کچی آبادیوں اور کلفٹن ڈیفنس میں لوگ پانی خرید کرپی رہے ہیں، وزیروں اور افسروں کے ٹینکر چل رہے ہیں، عوام بد دل ہوگئے ہیں۔70 سال سے نظام نوجوانوں کو غدار بنا رہا ہے، حالات سے تنگ ہوکر لوگ ہتھیار اٹھا کر پہاڑوں پر بیٹھ گئے ہیں، آئین میں صوبے بنانے کا طریقہ درج ہے، صوبے کی بات کفر نہیں، طریقے پر بات ہوسکتی ہے، آئین میں 27 ترامیم ہوئیں، اس کا مطلب آئین میں سقم تھا۔
PNP
Comments are closed.