امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے امریکا نے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا اور واشنگٹن تہران کے ساتھ بات چیت کے معاملے میں جلدی نہیں کر رہا۔
عرب میڈیا کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کے لیے کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق وہ مذاکرات کے حوالے سے کسی عجلت میں نہیں ہیں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے معاملے میں بڑی کامیابی حاصل کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکی صدر نے ایران میں بڑھتی مہنگائی، کمزور معیشت اور حکومت کی جانب سے عوام کے ساتھ مبینہ نامناسب رویے کا بھی ذکر کیا۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ اور فوجی کارروائیاں دونوں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں۔
ٹرمپ کا حالیہ بیان ان کے ماضی کے ان بیانات سے قدرے مختلف ہے جن میں وہ ایران کے ساتھ جاری تنازع جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کرتے رہے تھے۔ ماضی میں امریکی صدر نے جنگ کے خاتمے کے لیے چند ہفتوں کی مدت کا امکان بھی ظاہر کیا تھا۔
دونوں ممالک کے درمیان جون میں 60 روزہ مفاہمتی یادداشت طے پائی تھی، جس میں آبنائے ہرمز سے آمدورفت، ایران پر عائد پابندیوں میں ممکنہ نرمی اور ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات سمیت مختلف امور شامل تھے۔ یہ مفاہمت رواں ماہ کے آغاز میں ختم ہوگئی۔
ادھر امریکا نے حالیہ دنوں میں ایران اور ایران کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے مختلف ممالک کی تقریباً 60 کمپنیوں اور اداروں پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام نے اس اقدام کو ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے نئی امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کے اثرات اب صرف ایران تک محدود نہیں رہے۔
جنگ اور اقتصادی پابندیوں کے باعث ایران میں عام شہریوں کو بھی مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں نمایاں کمی جبکہ خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آزاد مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ سطح تک گر چکی ہے، جس کے باعث شہریوں کی قوتِ خرید مزید متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران پر مسلسل اقتصادی دباؤ اور کرنسی کی قدر میں کمی سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا وقت تاحال واضح نہیں۔
PNP
Comments are closed.