by Rao Imran Suleman
Rao Nama

نیپال ،کیچڑ کا پانی پی کر 9 دن زندہ رہنے والے دو افرادزندہ بچ گئے

نیپال،شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ہائیڈرو پاور منصوبے کی سرنگ میں نو روز تک پھنسے دو افراد کو ریسکیو ٹیموں نے بالآخر زندہ نکال لیا۔

کبیر مہارژن اور مکینیکل فورمین سنجے ساہ نے سرنگ کے اندر مکمل تاریکی اور انتہائی دشوار حالات میں کئی دن گزارے۔ دونوں افراد نے کیچڑ ملا پانی استعمال کرکے اپنی جانیں بچائیں، جبکہ سرنگ کے ایک محدود حصے میں موجود ہوا ان کے زندہ رہنے کا اہم ذریعہ بنی۔

ریسکیو حکام کے مطابق دونوں افراد سرنگ کے ایسے حصے میں پھنسے ہوئے تھے جہاں سیلابی پانی مکمل طور پر داخل نہیں ہوا تھا اور سانس لینے کے لیے مناسب ہوا موجود تھی۔

یہ واقعہ 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب اور مٹی کے تودوں کے بعد پیش آیا، جب گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے سیلاب نے دریائے بھوٹیکوشی کی وادی میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔

دونوں کارکنوں تک پہنچنا امدادی ٹیموں کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ سرنگ کے راستے مٹی، چٹانوں، درختوں اور دیگر ملبے سے بند تھے، جبکہ بعض مقامات پر ملبے کی تہہ کئی میٹر گہری تھی۔ مسلسل بارش کے باعث امدادی کارروائی بھی بار بار متاثر ہوتی رہی۔

ریسکیو اہلکاروں نے سرنگ کے اندر موجود افراد کا مقام معلوم کرنے کے لیے اوپر سے ایک چھوٹا سوراخ بھی کیا۔ کئی روز کی مسلسل کوششوں کے بعد دسویں روز علی الصبح امدادی ٹیموں کو سرنگ کے اندر سے آواز سنائی دی۔

اہلکاروں نے مشینری روک کر دوبارہ آواز کا جائزہ لیا تو انہیں یقین ہوگیا کہ ملبے کے دوسری جانب کوئی زندہ شخص موجود ہے۔ ملبہ ہٹانے کے دوران ایک ہاتھ نظر آیا، جس کے بعد امدادی کارکنوں نے مزید راستہ بنایا۔

کچھ دیر بعد سرنگ کے اندر سے آواز آئی کہ وہ دونوں وہاں موجود ہیں۔

ریسکیو ٹیم نے دونوں افراد کو باہر نکال لیا۔ سنجے ساہ شدید کمزوری کے باعث خود چلنے کے قابل نہیں تھے، اس لیے انہیں ایک امدادی کارکن کی پشت پر باہر لایا گیا، جبکہ کبیر مہارژن کو اسٹریچر کے ذریعے منتقل کیا گیا۔

اسپتال پہنچنے پر کبیر مہارژن کی حالت انتہائی کمزور تھی اور ذہنی طور پر بھی وہ شدید متاثر تھے۔ ابتدائی طور پر انہوں نے اپنی اہلیہ کو بھی نہیں پہچانا۔

دونوں افراد کی بقا کو ریسکیو ٹیموں نے غیر معمولی کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کی زندہ بازیابی کے بعد امدادی کارکنوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں اور تباہ شدہ وادی کی دیگر سرنگوں میں ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

PNP

Comments are closed.