سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے اثرات، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی
ریاض: سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹ میں اتوار کو کاروبار کے آغاز پر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ملک کی مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد مارکیٹ کا ابتدائی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی بینچ مارک انڈیکس تقریباً ایک فیصد نیچے آیا۔ الراجحی بینک کے حصص میں 0.8 فیصد جبکہ سعودی عربین مائننگ کمپنی کے حصص کی قیمت 2.4 فیصد کم ہوئی۔
سعودی آرامکو کے حصص میں بھی 1.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ رابغ ریفائننگ اینڈ پیٹروکیمیکل کمپنی کے حصص 7.3 فیصد گر گئے، جو مارکیٹ میں نمایاں ترین کمی تھی۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں فضائی حملوں کے بعد سعودی حکام نے احتیاطی طور پر مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن کی ترسیل روک دی ہے۔ حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرونز عراق سے لانچ کیے گئے تھے، جبکہ بغداد نے واقعے کے بعد اپنی سکیورٹی اقدامات مزید سخت کردیے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حملے میں ایران کے ممکنہ کردار کا ذکر کیا ہے، تاہم تاحال کسی گروپ نے باضابطہ طور پر حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سعودی توانائی تنصیبات کو درپیش خطرات کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے حوالے سے بھی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
PNP
Comments are closed.