by Rao Imran Suleman
Rao Nama

مسجدِ اقصیٰ میں 169 اسرائیلی آبادکار داخل، فلسطینیوں پر پابندیوں میں اضافہ

مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی فورسز کی سیکیورٹی میں 169 یہودی آبادکار باب المغاربہ کے راستے مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوگئے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر تلمودی رسومات ادا کیں، جس کے بعد مقبوضہ بیت المقدس میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

فلسطینی خبر رساں ادارے وفا نے محکمۂ القدس کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ اور پرانے شہر کے اطراف سخت سیکیورٹی انتظامات کر رکھے تھے۔ آبادکاروں نے مسجد کے صحن میں چکر لگائے اور تلمودی رسومات ادا کیں۔

یہ واقعات ایسے وقت میں ہوئے جب یہودی نئے سال روش ہشانہ کے موقع پر انتہا پسند یہودی گروہوں کی جانب سے مسجدِ اقصیٰ میں بڑے پیمانے پر داخلے اور مذہبی رسومات کی اپیلیں کی گئی ہیں۔

فلسطینی حکام کے مطابق نام نہاد ’’ٹیمپل آرگنائزیشنز‘‘ سے وابستہ گروہ یہودی تہواروں کے دوران مسجدِ اقصیٰ میں نئی مذہبی رسومات متعارف کرانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

مسجدِ اقصیٰ کا موجودہ انتظامی طریقہ کار

مسجدِ اقصیٰ کے حوالے سے تاریخی اسٹیٹس کو کے تحت غیر مسلموں کو احاطے میں آنے کی اجازت ہے، تاہم وہاں غیر مسلموں کی جانب سے باقاعدہ مذہبی عبادات کی اجازت نہیں ہے۔

مسجدِ اقصیٰ کے مذہبی امور کی نگرانی کرنے والا اردن، اوقاف کے ذریعے انتظامی کردار رکھتا ہے اور موجودہ انتظامی صورتِ حال برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے۔

اردن نے حالیہ آبادکاروں کی دراندازیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا 144 دونم رقبہ مسلمانوں کے لیے عبادت گاہ ہے اور وہاں آبادکاروں کی بار بار ہونے والی کارروائیاں تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کی خلاف ورزی ہیں۔

اردن کا سخت ردعمل

اردن نے مسجدِ اقصیٰ میں آبادکاروں کی مسلسل دراندازیوں اور مسلمان نمازیوں پر عائد پابندیوں کو تاریخی و قانونی اسٹیٹس کو کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان فواد المجالی نے کہا کہ ایسے اقدامات مسجدِ اقصیٰ کی حرمت کی توہین اور اشتعال انگیزی ہیں۔

اردن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت میں تبدیلی کی کوششیں روکے اور مسلمانوں کی مسجدِ اقصیٰ تک رسائی پر پابندیاں ختم کرے۔

یہودی تہواروں کے دوران کشیدگی میں اضافہ

مسجدِ اقصیٰ میں حالیہ واقعات یہودی تہواروں کے موقع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہیں۔

13 ستمبر کو فلسطینی ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 240 اسرائیلی آبادکار باب المغاربہ کے راستے مسجدِ اقصیٰ میں داخل ہوئے اور بعض نے مذہبی رسومات ادا کیں۔ اسی دوران اسرائیلی فورسز نے مسجد اور مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے شہر میں اپنی موجودگی بڑھا دی تھی۔

اس سے قبل 11 ستمبر کو بھی درجنوں آبادکار مسجدِ اقصیٰ سے متصل باب الرحمہ قبرستان میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے یہودی مذہبی رسومات ادا کیں اور شوفار پھونکے۔ فلسطینی محکمۂ القدس کے مطابق یہ کارروائی مسلسل تیسری ہفتے ہوئی۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات صرف مذہبی تہواروں تک محدود نہیں بلکہ مسجدِ اقصیٰ کے موجودہ تاریخی اور قانونی انتظام کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

محکمۂ القدس نے خبردار کیا ہے کہ بار بار مذہبی رسومات کی اجازت ملنے سے انہیں مستقبل میں معمول کا حصہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

فلسطینیوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں

فلسطینی ذرائع کے مطابق یہودی تہواروں کے دوران اسرائیلی حکام مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں سڑکیں بند کرنے اور فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے اقدامات کرتے ہیں، جبکہ یہودی آبادکاروں کو مسجدِ اقصیٰ کے اطراف اور احاطے تک رسائی کے لیے سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے۔

محکمۂ القدس نے رواں ماہ کے آغاز میں بھی خبردار کیا تھا کہ ستمبر کے دوران مسجدِ اقصیٰ سے فلسطینیوں کی بے دخلی اور داخلے پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

محکمے کے مطابق یکم سے 6 ستمبر تک مسجدِ اقصیٰ سے فلسطینیوں کو روکنے کے 15 احکامات جاری کیے گئے۔

خیال رہے کہ اگست 2026 میں بھی اسرائیلی وزیر ایتمار بن گویر اور آبادکاروں کے مسجدِ اقصیٰ میں داخلے پر اردن نے شدید احتجاج کیا تھا اور اسے تاریخی و قانونی اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔

جولائی میں امارات، اردن، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں مسجدِ اقصیٰ اور القدس کے تاریخی و قانونی اسٹیٹس کو تبدیل کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسجدِ اقصیٰ کا پورا 144 دونم احاطہ صرف مسلمانوں کے لیے عبادت کی جگہ ہے۔

PNP

Comments are closed.