ایران نے آبنائے ہرمز کیلئے امریکا کو شرائط بتا دیں
ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے متعدد شرائط پیش کردی ہیں۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کے دوران تہران کا مؤقف پہنچایا۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے اور مختلف محاذوں پر جاری جنگی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی کہا ہے کہ قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکا تک تہران کا پیغام پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق ایران امریکی فوجی کارروائیوں اور بحری ناکہ بندی کے خاتمے کے ساتھ اقتصادی دباؤ ختم کرنے اور ایرانی اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔
ایران کی جانب سے اس سے قبل بھی عندیہ دیا جا چکا ہے کہ اگر امریکی فوجی دباؤ اور ناکہ بندی میں کمی آتی ہے تو آبنائے ہرمز کو تقریباً ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں جاری امریکا ایران رابطوں کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت جاری ہے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔ تاہم اہم معاملات پر دونوں جانب کے مؤقف میں اختلاف برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے خلیج فارس سے خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ آبنائے کی بندش یا بحالی سے عالمی تیل قیمتوں اور علاقائی تجارت پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
PNP
Comments are closed.