by Rao Imran Suleman
Rao Nama

نوٹ اور ووٹ لینا ہوتا ہے تو ’’مائی کراچی‘‘ یاد آ جاتا ہے، لگتا ہے میئر کراچی کی سیٹنگ اپ سیٹ ہونیوالی ہے: فاروق ستار

کراچی ( پی این پی ) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ  2023ء میں بلدیاتی انتخابات سے پہلے میئر کراچی ایڈمنسٹریٹر تھے، لگتا ہے میئر کراچی کی سیٹنگ اپ سیٹ ہونے والی ہے۔

 کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن اور دیگر واجبات نہیں ملے، 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین ایک دہائی سے واجبات سے محروم ہیں۔سندھ ہائی کورٹ میں درخواست کے ایم سی ملازمین کی طرف سے دائر کی گئی تھی، یہ پٹیشن ایم کیو ایم پاکستان کی حمایت سے دائر کی گئی تھی۔ یہ میئر کی کارکردگی پر بھی سوال ہے، پینشن اورفنڈز خیرات نہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن اور دیگر واجبات ملازمین کو فوری ملنے چاہئیں۔

’’جنگ ‘‘ کے مطابق فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 15 ستمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے پٹیشن پر فیصلہ دیا، فیصلے میں کوئی ابہام نہیں، ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سندھ حکومت کی چالاکی نہیں چل سکتی، ہائی کورٹ کا فیصلہ میئر کراچی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ عدالت نے 2 ماہ میں کے ایم سی کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کا فیصلہ دیا ہے، عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ کو واجبات کی ادائیگی کی نگرانی کا کہا ہے۔سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کے ایم سی کی نااہلی کو ثابت کرتا ہے، عدالتی فیصلے کے بعد ہر حال میں کے ایم سی کے ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات ادا کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے نام پر مٹھی بھر لوگوں کو جمع کیا ہے، نوٹ اور ووٹ لینا ہوتا ہے تو ’’مائی کراچی‘‘ یاد آ جاتا ہے، سندھ کے تمام اضلاع میں انتظامی یونٹ بننے چاہئیں، سندھ حکومت نے لوٹ مار اور کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔



PNP

Comments are closed.