خیبر پختونخواحکومت کےمجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر پی ٹی آئی کے بانی رہنما اکبر ایس بابر کا بیان بھی آ گیا
اسلام آباد (پی این پی) خیبرپختونخوا کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔
اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون کے ذریعے خیبرپختونخوا پولیس کے انتظامی، مالی اور عملی اختیارات میں حکومتی مداخلت بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق منظور شدہ مسودے میں پولیس چیف کے بعض انتظامی، مالی اور آپریشنل فیصلوں کو حکومت یا وزیراعلیٰ کی ہدایات اور پالیسی سے مشروط کیا گیا ہے۔
اپنے بیان میں اکبر ایس بابر نے الزام عائد کیا کہ مجوزہ پولیس ایکٹ کا مقصد صوبائی پولیس کے کردار کو اس انداز میں تبدیل کرنا ہے جو ماضی کی فیڈرل سکیورٹی فورس (FSF) کی یاد تازہ کرتا ہے، جسے ان کے مطابق 1970 کی دہائی میں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا تھا۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کے آپریشنل، مالی اور انتظامی معاملات میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانا پولیس کی خودمختاری سے متعلق مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
اکبر ایس بابر نے فروری 2026 میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس میں عدالت نے پولیس افسران کی تعیناتی سے متعلق بعض ترامیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس کی آپریشنل خودمختاری بحال کی تھی۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مجوزہ قانون صوبے میں سیاسی اثر و رسوخ کو تقویت دے سکتا ہے اور پولیس کو عوامی تحفظ کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خدشات پیدا کرتا ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کابینہ نے 23 ستمبر کو ترمیم شدہ پولیس ایکٹ 2026 کی منظوری دی ہے، جس کے بعد مسودہ آئندہ قانون سازی کے لیے صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
PNP
Comments are closed.