امریکا میں چین کے لیے جاسوسی کے الزام پر مشتبہ خاتون گرفتار
امریکا میں فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ایک 34 سالہ خاتون وان ینگ ژانگ، جو ہیدر کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں، کو چین کے لیے مبینہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمہ کو لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ چین جانے والی پرواز پر سوار ہونے کی تیاری کر رہی تھیں۔
سرکاری دستاویزات اور امریکی حکام کے بیانات کے مطابق، ملزمہ پر چینی حکومت کے غیر رجسٹرڈ غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ ایف بی آئی کا مؤقف ہے کہ ژانگ نے تائیوان کے صدر لائی چنگ تے کے بیٹے لائی ٹنگ یو اور ان کے اہل خانہ کی خفیہ نگرانی کی۔
دستاویزات کے مطابق، ملزمہ نے 2025 میں چینی حکام کی ہدایت پر سیئٹل کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے صدرِ تائیوان کے بیٹے اور ان کے خاندان سے متعلق تصاویر، ویڈیوز اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی معلومات جمع کر کے چینی حکام کو فراہم کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ژانگ نے اپنی سرگرمیوں کو خفیہ رکھنے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے پیشہ ورانہ طریقے استعمال کیے اور کبھی واشنگٹن کو باضابطہ مطلع نہیں کیا کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے لیے کام کر رہی ہیں۔
تائیوان کے صدارتی دفتر نے اس گرفتاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس واقعے کو “بین الاقوامی سطح پر سیاسی دباؤ” کی ایک مثال قرار دیا ہے اور تائیوانی شہریوں کے تحفظ پر امریکی حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔ ترجمان کیرن کوو نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا ملک انسانی حقوق اور اقوام کی خودمختاری کو نظر انداز کرنے والے ایسے طرزِ عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ملزمہ کو لاس اینجلس کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
PNP
Comments are closed.