بھارت میں 13 کروڑ سے زائد ووٹرز کے نام خارج ہونے پر سیاسی ہلچل،عالمی میڈیا میں بھی معاملہ زیر بحث
نئی دہلی: بھارت میں انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زیادہ نام خارج کیے جانے کے معاملے نے سیاسی بحث کو شدت دے دی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مختلف مظاہرین نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق ووٹر فہرستوں سے نکالے گئے ناموں کی تعداد میکسیکو کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اس معاملے پر بھارت میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے جبکہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کو خدشہ ہے کہ ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر نام خارج ہونے سے مسلمان ووٹرز سمیت مختلف طبقات کے حقِ رائے دہی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ناقدین یہ بھی الزام عائد کر رہے ہیں کہ اس عمل سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو سیاسی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ تاہم ان خدشات اور الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
اس معاملے پر روایتی اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ نوجوانوں کی قیادت میں سرگرم کاکروچ جنتا پارٹی سے منسوب مظاہرین بھی چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں سے ناموں کا اخراج محض انتظامی کارروائی نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقِ رائے دہی اور جمہوری نظام کی شفافیت سے جڑا معاملہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی دہلی، ممبئی اور بنگلورو میں احتجاج کے بعد 10 اکتوبر کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر مزید مظاہروں کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
PNP
Comments are closed.