امریکی اور اسرائیلی حملے ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت ختم نہ کر سکے
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی بمباری کے کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایران اپنی میزائل اور ڈرون سازی کی صلاحیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ معاملے سے واقف حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کے ہتھیار تیار کرنے والے کارخانوں کو مکمل طور پر ناکارہ نہیں بنایا جا سکا، جس کے باعث تہران اپنے جنگی ذخائر دوبارہ بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائلوں اور بعض اقسام کے جہاز شکن ہتھیاروں کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں، جبکہ وہ مزید میزائل تیزی سے تیار کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق روس کی جانب سے بھی ایران کو میزائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکام کے ان جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پاس اتنی عسکری صلاحیت موجود ہے کہ امریکا کی جانب سے دوبارہ فضائی حملے شروع کیے جانے کی صورت میں تہران جوابی کارروائی کر سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات سے قبل مزید حملوں کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار جم لیمسن کے جائزے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں نے طویل مدت کے تناظر میں ایران کی جنگ سے پہلے موجود میزائل سازی کی صلاحیت کے بڑے حصے کو شدید نقصان پہنچایا ہوگا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مغربی انٹیلی جنس اداروں کے جائزوں میں جون کے دوران یہ اندازہ بھی سامنے آیا تھا کہ ایران کے پاس جنگ سے پہلے موجود گولہ بارود اور دیگر جنگی ذخائر کا تقریباً تین چوتھائی حصہ برقرار تھا۔
PNP
Comments are closed.