ٹرمپ نے نضال حسن کی سزائے موت براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی فوجی ماہرِ نفسیات نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت کی براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ فورٹ ہڈ حملے کے ذمے دار نضال حسن کی پھانسی کو آن لائن نشر کیے جانے کے حامی ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے اس بارے میں شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خود یہ منظر نہیں دیکھیں گے۔
اس فیصلے پر تنقید میں اضافے کے بعد ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا کہ بہت سے نیک نیت اور مخلص لوگ اسے مرتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہیں گے۔
اس سے قبل گذشتہ ہفتے امریکہ کے 72 ریٹائرڈ جنرلز، ایڈمرلز اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران کے ایک گروپ نے امریکی حکومت پر زور دیا تھا کہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے ہونے والی سزائے موت کی براہِ راست نشریات کے منصوبے کو منسوخ کیا جائے۔
انھوں نے ایک خط میں لکھا کہ ہم صدر، کانگریس میں اپنے نمائندوں اور اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اختیارات کے اس وحشیانہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے اقدام کریں۔
اب صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں اگر پھانسی عوامی طور پر نشر کی جاتی تو یہ دنیا کے لیے ایک تنبیہ ثابت ہو سکتی تھی کہ امریکہ دہشت گردوں اور حسن جیسے افراد سے کیسے نمٹتا ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ نضال حسن کو طے شدہ شیڈول کے مطابق فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی، لیکن اس عمل کو براہِ راست نشریات نہیں کیا جائے گا۔
نضال حسن نے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر 13 غیر مسلح امریکی فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
PNP
Comments are closed.