پرتگال فٹ بال فیڈریشن نے کرسٹیانو رونالڈو پر 30 روزہ پابندی عائد کر دی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق رونالڈو نے ٹیم میں اپنے کردار پر کوچ جارجے ژیزس سے اختلاف کے بعد قومی ٹیم کا کیمپ چھوڑ دیا تھا۔
فیڈریشن کی تادیبی کونسل نے 41 سالہ فارورڈ کھلاڑی کے خلاف عائد الزام کو مکمل طور پر برقرار رکھتے ہوئے ان پر 255 یورو (285.83 امریکی ڈالرز) جرمانہ بھی عائد کیا۔
رونالڈو نے رواں ماہ ڈنمارک کے خلاف نیشنز لیگ کے میچ سے قبل کوپن ہیگن میں پرتگال کا تربیتی کیمپ چھوڑ دیا تھا، اس سے قبل ناروے کے خلاف میچ میں انہیں متبادل کھلاڑیوں میں شامل کیا گیا تھا، تاہم میدان میں اترنے کا موقع نہیں ملا۔
رونالڈو نے الزام عائد کیا تھا کہ کوچ جارجے ژیزس نے ٹیم میں میرے کردار کے حوالے سے 2 مرتبہ اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔
جارجے ژیزس نے رونالڈو کے ساتھ کسی معاہدے کی موجودگی کی تردید کی تھی، تاہم پرتگال کی 1-2 سے کامیابی کے بعد انہوں نے رونالڈو کی واپسی کا امکان مسترد نہیں کیا۔
فیڈریشن کی تادیبی کونسل کے غیر پیشہ ورانہ امور سے متعلق شعبے کے مطابق رونالڈو نے جان بوجھ کر فیڈریشن کے تادیبی ضوابط کی شق 160(1) کے تحت جرم کا ارتکاب کیا۔
اس معاملے میں کارروائی متعلقہ واقعات کی رپورٹ درج ہونے کے 2 روز بعد 9 اکتوبر کو شروع کی گئی۔
فیڈریشن کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پابندی کا اطلاق کن میچوں یا سرگرمیوں پر ہو گا اور آیا عارضی پابندی کے تحت پہلے سے گزارا گیا وقت 30 روزہ سزا میں شمار کیا جائے گا یا نہیں؟
بعد ازاں رونالڈو نے ناروے کے خلاف میچ کے بعد شائقین کی جانب توجہ نہ دینے اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کو چھوڑ کر چلے جانے پر معذرت کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کے نتیجے میں ملنے والی سزا پوری کرنے کے بعد قومی ٹیم کے لیے دستیاب رہوں گا۔
پرتگال فٹ بال فیڈریشن کے صدر پیڈرو پروینسا نے کہا ہے کہ معاملہ حل ہونے کے بعد فیڈریشن میں ہر شخص رونالڈو کی قومی ٹیم میں واپسی کا خواہش مند ہے۔
PNP
Comments are closed.