by Rao Imran Suleman
Rao Nama

باغِ جناح میں ڈائنوسار سے بھی قدیم نسل کے ساگو پام درخت پر نئے پتے نکل آئے

لاہور( پی این پی)باغ جناح میں 176 سال پرانا کوئین ساگو پام درخت پوری طرح پتوں سے بھر گیا ہے۔

پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق یہ پودا ایک ایسی نباتاتی نسل سے تعلق رکھتا ہے جو ڈائنوسارز سے بھی قدیم ہے۔یہ پودا تاریخی باغِ جناح سے بھی پرانا ہے جو 1860 کی دہائی میں نباتاتی باغ اور تفریح گاہ کے طور پر بنایا گیا تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ یہ باغ لندن کے کیو گارڈنز کی طرز پر بنایا گیا تھا۔ کوئین ساگو پام درخت سائیکیڈز کی قسم ہے جو بیج دار پودوں کا قدیم گروہ ہے۔ اس کا فوسل ریکارڈ تقریبا 28 سے 30 کروڑ سال پرانے پرمین دور تک جاتا ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ پودے کھانے والے ڈائنوسارز بشمول لمبی گردن والے سوروپوڈز، سائیکیڈز کے پتے، کونز اور غذائیت سے بھرپور بیج کھاتے تھے۔

ساگو پام سمیت یہ پودے میسوزوئک دور میں زمین کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر پائے جاتے تھے۔اس حوالے سے ترجمان نے بتایا کہ پی ایچ اے صوبے کے سبز رقبے کی نگہداشت کے ساتھ دنیا کے قدیم ترین قبل از تاریخ پودوں میں سے کچھ کا انتظام بھی سنبھال رہا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ لاہور کا ساگو پام درخت نہ صرف قبل از تاریخ ہے بلکہ ایک ایسی نایاب قسم سے تعلق رکھتا ہے جو معدومیت کے خطرے سے دوچار ہے اور یہی بات اسے خاص اہمیت دیتی ہے۔

PNP

Comments are closed.