ملک بھر میں موبائل فون صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد بھی کروڑوں میں ہے۔
تفصیلا ت کے مطابق اس حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موبائل سروسز تک رسائی 90فیصد تک پہنچ گئی ہے اور موبائل فون صارفین کی تعداد 19.2 کروڑ تک جاپہنچی ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن نے ملاقات کی، ملاقات میں چیئرمین پی ٹی اے نے وزیرِ اعظم کو سالانہ رپورٹ 2023 پیش کی۔
انہوں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے پی ٹی اے کی آمدن 17 فیصد اضافے کے بعد 850 ارب تک پہنچ گئی جبکہ ملک بھر میں موبائل سروسز تک رسائی 90 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2023 میں موبائل فون صارفین کی تعداد 19.2 کروڑ جبکہ ہائی اسپیڈ براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 13 کروڑ تک پہنچ گئی۔
واضح رہے کہ موجودہ نگراں حکومت کی جانب سے اوورسیز پاکستانی موبائل فون صارفین کے لیے خوشخبری دی گئی ہے کہ ایف بی آر نے ان کے لیے پانچ سال پرانے استعمال شدہ موبائل فون پر ٹیکس چھوٹ دے دی ہے۔
اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے گزشتہ ماہ دسمبر 2023 میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے پانچ سال پرانے استعمال شدہ موبائل فونز پر 60 فیصد ٹیکس چھوٹ دینے کا اعلان تھا۔
اس کے علاوہ ایف بی آر نے مختلف نوعیت کے استعمال شدہ 1160 موبائل فونز پر بھی ٹیکس میں کمی کر دی ہے۔
Trending
- کراچی:حب ریور روڈ پر مزدا کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار جاں بحق
- گاڑیوں کے سائیڈ شیشے چوری کرنے والا خاندانی گروہ گرفتار
- ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔