بلوچستان کے ضلع پشین میں پولیس لائن کے قریب دھماکا ہوا ہے جس کی زد میں آکر 2 بچے جاں بحق اور 5 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق پشین میں دھماکا پولیس لائن کے قریب بازار میں ہوا، دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جب کہ دھماکے سے قریب کھڑی ایک گاڑی مکمل تباہ ہوگئی اور دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دھما کے کے نتیجے میں 2 بچے جاں بحق اور 12 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے زخمیوں میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور دھماکے کی نوعیت کا پتا لگایا جارہا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کی مذمت
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پشین میں پولیس لائنز کے قریب دھماکے کی مذمت کی اور دھماکے میں 2 بچوں کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیا، محسن نقوی نے جاں بحق بچوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی پولیس اہلکاروں سمیت دیگر افراد کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔
محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشتگرد انسان کہلانے کے حقدار نہیں، دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی، یہ پاکستان کی بقا اور نئی نسلوں کو پر امن اور محفوظ پاکستان دینے کی جنگ ہے، قوم اور سکیورٹی فورسز اس جنگ میں شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔
Trending
- پنکی کو جیل میں ادویات اور کپڑے کیوں فراہم نہیں کیے جاتے؟عدالت کا استفسار،ویمن جیل سپرنٹنڈنٹ کے جواب پر درخواست نمٹا دی گئی
- مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، یورپی پروازوں کے لیے نیا الرٹ جاری
- سندھ میں 79 ایلوپیتھک، ہربل ادویات، سرنجز غیرمعیاری و جعلی قرار
- پہلا ٹی20، جنوبی افریقہ ویمن انڈر 19 نے پاکستان ویمن انڈر 19 کو ہرادیا
- دپیکا پڈوکون کے ماضی سے متلعق بڑا انکشاف؟ مزمل ابراہیم کے بیان نے ہلچل مچا دی
- سونے اور چاندی کی قیمتوں میں پھر اضافہ
- بحرین میں ایران کے لیے جاسوسی، 3 افراد کو عمر قید
- محکمہ موسمیات کا مون سون 2026 آؤٹ لک جاری، گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خدشہ
- آئی سی سی کا ون ڈے ورلڈکپ کا فارمیٹ تبدیل کرنے پر غور
- Hina Pervez butt also criticized Rajab Butt mother
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔