راولپنڈی(نیوزڈیسک)سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر مقدمے میں 10-10سال قید بامشقت سزا سنادی گئی ہے۔
منگل کو اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت کے جج ابولحسنات محمد ذوالقرنین نے سزا سنائی۔ سائفر کیس میں دونوں ملزمان کو قید بامشقت سنائی گئی ہے۔
قید بامشقت سزا میں مجرم کو کیا کرنا پڑتا ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق قید بامشقت سزا میں جیل کے اندر مختلف نوعیت کے کام کی ذمہ داریاں عائد کی جاتی ہیں اور اس کا باقائدہ معاوضہ بھی ملتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق جیل میں مختلف فیکٹریاں بھی کام کر رہی ہوتی ہیں، کسی فیکٹری میں بھی کام پر لگایا جاسکتا ہے، تعلیم دینے کی ڈیوٹی بھی لگائی جاتی ہے، مسجد کی صفائی، کھیتی باڑی کی ذمہ داریاں بھی لگائی جاتی ہیں جبکہ کچھ کام سخت نوعیت کی بھی ہوتے ہیں۔
قید بامشقت قیدیوں کو کھانے بنانے میں مدد، پودوں کی دیکھ بھال، تراش خراش کرنا جیسے کام بھی کروائے جاتے ہیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ سپرٹینڈنٹ جیل کا اختیار ہے کہ وہ کس قیدی کو کیا کام دیں جبکہ کچھ مشقت ایسی بھی ہے جس سے سزا میں بھی کمی ہوتی ہے جیسے تعلیم یا قرآن پڑھانا۔
Trending
- دکانداروں کےخلاف کارروائیاں، تاجروں کا ملک کی سب سے بڑی ہول سیل مارکیٹ کل بند رکھنےکا اعلان
- آبنائے ہرمز میں دو بحری جہاز ٹکراگئے۔ایران نے 23 غیرملکی اہلکاروں کو بچا لیا
- ماجد ستی قتل کیس، عدالت نے مرکزی ملزم فرخ کھوکھر کو عمر قید کی سزا سنا دی
- فیفا کا ورلڈ کپ 2026ء کے فائنل کی پچ کے ٹکڑے فروخت کرنے کا فیصلہ، لاکھوں ڈالرز آمدن کی توقع
- جوا ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں ٹک ٹاکر اقرا کنول اور اریب کی عبوری ضمانت کنفرم
- سونے کی قیمت میں کمی
- عمان کے لیماہ علاقے کے قریب آئل ٹینکر میزائل کی زد میں آگیا
- کراچی: دورانِ ڈکیتی فائرنگ کا نشانہ بننے والے ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات ادا
- بیوی پر تشدد کا مقدمہ: یوٹیوبر علی حیدر آبادی کی ضمانت میں توسیع
- مک جیگر نے انکشاف کیا کہ وہ ایلوس پریسلے سے کیوں نہیں ملا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔