بیجنگ : شی زانگ کے بارے میں میرا پہلا تاثر خوبصورت برف پوش پہاڑوں اور صاف جھیلوں کا نہیں تھا، بلکہ بچپن میں نصابی کتابوں اور ریڈیو پر سنی ہوئی خوفناک کہانیوں کا تھا: پرانا شی زانگ مذہب اور ریاست کے اتحاد پر مبنی جاگیردارانہ غلامی کا نظام تھا، جہاں 95% آبادی انتہائی غربت اور ظلم میں زندگی گزارتی تھی۔ یہاں بسنے والے افراد کو انفرادی آزادی تک حاصل نہیں تھی، انہیں خریدا اور بیچا جا سکتا تھا، سزا دی جا سکتی تھی، حتیٰ کہ قتل بھی کیا جا سکتا تھا۔ غلاموں کے مالک اپنے غلاموں کی آنکھیں نکالنے، پاؤں کاٹنے جیسے مظالم کرتے تھے، بلکہ ان کی کھال سے ڈرم بھی بنائے جاتے تھے۔ یہ تصاویر میرے ذہن پر ایسی چپک گئی تھیں کہ سالوں بعد، اگرچہ شی زانگ کو "زمین پر جنت” کے طور پر جانا جاتا ہے، میں اب بھی اس سے ڈرتا ہوں۔ آج بھی تبت میں ” سرفوں کی آزا…
Trending
- خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
- مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
- فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا لاتعلقی کا اعلان
- کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے ٹیلر سوئفٹ سمیت بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیا
- جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندیاں تشکیل پانے لگیں
- سرگودھا: نہروں، دریاؤں میں نہانے پر پابندی کی خلاف ورزی، 59 افراد گرفتار
- کرن جوہر نے شاہ رخ خان سمیت کئی اہم شخصیات کو ’ان فالو‘ کیوں کیا؟
- DUI کی گرفتاری کے بعد برٹنی سپیئرز کی زندگی کیسے بدل گئی
- جان ٹراولٹا نے بیٹی ایلا کو ‘پروپیلر ون وے نائٹ کوچ’ میں متعارف کرایا
- سرگودھا: گھریلو ناچاقی سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی، والد کا سسرالیوں پر تشدد کا الزام