by Rao Imran Suleman
Rao Nama

"شہرت کے اس پار: قادر خان کی وہ کہانی جسے سن کر آنکھیں نم ہو جائیں!”

معروف آنجہانی بالی ووڈ اداکار، مکالمہ نگار اور مصنف قادر خان کی زندگی ایک متاثر کن جدوجہد کی داستان ہے

0

معروف آنجہانی بالی ووڈ اداکار، مکالمہ نگار اور مصنف قادر خان کی زندگی ایک متاثر کن جدوجہد کی داستان ہے۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق امیتابھ بچن گووندا اور دیگر اسٹارز کے ساتھ کئی بڑی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے آنجہانی اداکار قادر خان کا بچپن غربت میں گزرا، جہاں انہیں نہ صرف مالی مسائل کا سامنا تھا بلکہ سوتیلے والد کے ساتھ تعلقات بھی ناخوشگوار رہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق قادر خان 22 اکتوبر 1937 کو افغانستان میں پیدا ہوئے، ان کے والد کا تعلق قندھار سے اور والدہ اقبال بیگم برطانوی ہندوستان سے تھیں، قادر خان کا خاندان مالی تنگی کا سامنا کرنے کے بعد بہتر زندگی کی تلاش میں ممبئی منتقل ہوگیا تھا۔
مالی تنگی کے باعث قادر خان کے والدین میں علیحدگی ہوگئی تھی جس کے بعد قادر خان کی والدہ کی زبردستی دوسری شادی کروادی گئی اور یہیں سے قادر خان کی مشکل زندگی کا آغاز ہوا۔
ان حالات کے باعث قادر خان اور ان کے بہن بھائیوں کو کم عمری میں ہی بے گھر ہونا پڑا، یہاں تک کہ کچھ عرصے کے لیے اس خاندان کو ممبئی کی سڑکوں پر بھیک مانگ کر گزارا کرنا پڑا۔
ماضی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں قادر خان نے اپنے مشکل دنوں کا اعتراف کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے سوتیلے باپ کی مار بھی برداشت کی اور بےحد کم عمر میں انہیں پیسے کمانے کیلئے مسجد کے باہر بھیک بھی مانگنا پڑی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق قادر خان کے سوتیلے والد ان پر تشدد کیا کرتے تھے حتیٰ کہ انہیں پیسے کمانے کے لیے اکثر 10 کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور کیا جاتا تھا، والد کے تشدد کا شکار یہ لڑکا مسجد کے آگے بھیک مانگنے پر بھی مجبور تھا۔

کئی میڈیا رپورٹس دعویٰ کرتی ہیں کہ قادر خان کا خاندان ہر 3 دن میں صرف ایک بار کھانا کھا سکتا تھا اور باقی دن بھوکے گزارتےتھے۔

قادر خان کی والدہ نے انہیں اپنی تعلیم جاری رکھنے اور زندگی میں ایک بڑ اآدمی بننے کی طرف مائل کیا، قادر خان تعلیم حاصل کرنے کے بعد سول انجینئر بن گئے، انہوں نے بائیکلہ کے ایم ایچ صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ میں بطور سول انجینئر بھی پڑھایا۔

 

 

 

تاہم انہی تلخ تجربات نے قادر خان کی شخصیت کو نکھارا اور ان کے فن میں گہرائی پیدا کی۔ وہ غربت کی زندگی سے نکل کر نہ صرف ایک کامیاب اداکار بنے بلکہ ایک مقبول اسکرین رائٹر بن کر اُبھرے۔

قادر خان نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1973 میں کیا تھا جس کے بعد وہ کئی پراجیکٹس سے جڑے رہے۔ قادر خان کی فلم ’خوددار‘ جس کو انہوں نے خود لکھا اور اس کی ہدایتکاری بھی کی، تین بھائیوں کی کہانی بیان کرتی ہے جو زندگی میں پیش آنے والی مشکلات کے باعث سڑکوں پر آ جاتے ہیں۔

اسی طرح فلم ’سپنوں کا مندر‘ میں انہوں نے ’مولا بابا‘ نامی ایک نابینا فقیر کا کردار ادا کیا، جو کہانی کا مرکزی جزو ہے یہ کردار ان کے بچپن کے دنوں سے ہی متاثر ہے۔

قادر خان نے اپنی زندگی میں 400 سے زائد فلموں میں کام کیا، ان کی آخری فلم 2019 میں ریلیز ہوئی جس کے بعد وہ کینیڈا میں انتقال کر گئے۔
قادر خان ایک عظیم اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ 81 فلموں کے مکالموں اور سکرپٹ کے مصنف بھی تھے۔

 

 

ستاروں کی چمک کے پیچھے چھپا دکھ: خوشبو خان کی زندگی کا افسوسناک راز سامنے آ گیا

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.