by Rao Imran Suleman
Rao Nama

صدر ٹرمپ کی عمان کو دھمکی سے خود امریکی بھی حیران ہیں، سی این این

اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عمان کے بارے میں سخت بیان نے بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارتی ماہرین کو چونکا دیا ہے،

کیونکہ عمان کو طویل عرصے سے امریکہ کے قریبی اور قابلِ اعتماد عرب اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔عمان عرب دنیا کی قدیم ترین خودمختار ریاستوں میں شامل ہے اور 1833 میں امریکہ کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنے والا پہلا خلیجی ملک تھا۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مسقط نے خطے میں ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان پس پردہ مذاکرات اور قیدیوں کے تبادلوں کے معاملات میں۔سرد جنگ کے دور اور ایرانی انقلاب کے بعد بھی عمان نے واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھا۔ 1980 میں امریکہ کے ساتھ فوجی رسائی کے معاہدے پر دستخط کرنے والا یہ پہلا خلیجی ملک تھا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمان کو اکثر مشرقِ وسطیٰ کا “سوئٹزرلینڈ” قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے ہمیشہ نسبتاً غیرجانبدار اور متوازن خارجہ پالیسی اپنائی ہے۔ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب اس کی جغرافیائی حیثیت نے اسے خطے میں غیرمعمولی اہمیت عطا کی، تاہم اسی محل وقوع کی وجہ سے اسے ماضی میں بیرونی دباؤ اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت کا بھی سامنا رہا۔ایران کے ساتھ عمان کے تعلقات عمومی طور پر دوستانہ مگر محتاط نوعیت کے رہے ہیں۔ دیگر خلیجی ممالک کے برعکس مسقط نے تہران کے ساتھ زیادہ تر سفارتی روابط پر توجہ رکھی،

جس کے باعث وہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان ایک قابلِ اعتماد رابطہ کار کے طور پر ابھرا۔رواں سال عمان کا سفارتی کردار مزید نمایاں ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں اس نے ثالثی کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ عمانی وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ فریقین کے درمیان پیش رفت ہو رہی ہے اور کسی ممکنہ معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔تاہم خطے میں حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کے بعد عمان نے کھل کر عسکری کارروائیوں پر تنقید کی۔ عمانی قیادت نے بارہا زور دیا کہ مسائل کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔جنگ کے دوران عمان مسلسل ایران، امریکہ اور دیگر علاقائی ممالک سے رابطے میں رہا تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے اور سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔ ایسے حالات میں امریکی صدر کی جانب سے عمان کو نشانہ بناتے ہوئے سخت دھمکی دینا غیرمعمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ ایک روز قبل وائٹ ہاؤس میں کابینہ اجلاس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر عمان ایران کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو امریکہ سخت ردِعمل دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان سمیت تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا ہوگا، بصورت دیگر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

PNP

Comments are closed.