چین اور روس کو بین الاقوامی اخلاقیات کو برقرار رکھنا چاہئے، چینی نائب وزیر اعظم
بیجنگ : چین کے نائب وزیر اعظم ڈنگ شوئے شیانگ نے سینٹ پیٹرزبرگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کی ہے۔ ہفتہ کے روز ڈنگ شوئے شیانگ نے نشاندہی کی کہ چین روس کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد کو مستحکم کرنے، تعلقات کو مضبوط بنانے، اقتصادی اور تجارتی سرمایہ کاری کو بڑھانے، توانائی کے شعبے میں عملی تعاون کو گہرا کرنے، متعلقہ منصوبوں کی تعمیر کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کی ترقی اور بحالی کی حمایت کے لئے کام کرنے کا خواہاں ہے۔ ڈنگ شوئے شیانگ نے کہا کہ چین اور روس کو مضبوط جامع تزویراتی تعاون کے ساتھ بین الاقوامی اخلاقیات کو برقرار رکھنا چاہئے ، ڈبلیو ٹی او کی مرکزیت پر مبنی کثیر الجہتی تجارتی نظام کی حمایت کرنی چاہئے ، صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام کو برقرار رکھنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے ، شنگھائی تعاون تنظیم اور برکس سمیت کثیر الجہتی تعاون کو گہرا کرنا چاہئے ، اور مساوی اور منظم عالمی کثیر پولرائزیشن اور جامع اقتصادی گلوبلائزیشن کو فروغ دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنا چاہئے۔پیوٹن نے کہا کہ بیرونی مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے روس اور چین کے تعلقات ہمہ جہت ترقی کی راہ پر ہیں اور ایک بے مثال سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کی تھیان جن سمٹ اور جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی جنگ اور عالمی فاشسٹ مخالف جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ کی یادگارتقریبات میں شرکت کے منتظر ہیں۔
Trending
- پنکی کو جیل میں ادویات اور کپڑے کیوں فراہم نہیں کیے جاتے؟عدالت کا استفسار،ویمن جیل سپرنٹنڈنٹ کے جواب پر درخواست نمٹا دی گئی
- مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، یورپی پروازوں کے لیے نیا الرٹ جاری
- سندھ میں 79 ایلوپیتھک، ہربل ادویات، سرنجز غیرمعیاری و جعلی قرار
- پہلا ٹی20، جنوبی افریقہ ویمن انڈر 19 نے پاکستان ویمن انڈر 19 کو ہرادیا
- دپیکا پڈوکون کے ماضی سے متلعق بڑا انکشاف؟ مزمل ابراہیم کے بیان نے ہلچل مچا دی
- سونے اور چاندی کی قیمتوں میں پھر اضافہ
- بحرین میں ایران کے لیے جاسوسی، 3 افراد کو عمر قید
- محکمہ موسمیات کا مون سون 2026 آؤٹ لک جاری، گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خدشہ
- آئی سی سی کا ون ڈے ورلڈکپ کا فارمیٹ تبدیل کرنے پر غور
- Hina Pervez butt also criticized Rajab Butt mother
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔