برمنگھم، لندن (انٹرنیشنل نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سینئررہنما، مسلم لیگ (اوورسیز یوکے) کے صدر اور چوہدری شجاعت حسین لوورز گروپ کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین جیسے زیرک اور بردبار سیاستدان صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔
اپنے آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بطور وزیر داخلہ اور بعد ازاں وزیراعظم، چوہدری شجاعت نے ملک و قوم، بالخصوص اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ ہمیشہ امن، مفاہمت اور حب الوطنی کے فروغ کے لیے کوشاں رہے ہیں۔
ڈاکٹر شوکت علی نے کہا کہ چوہدری شجاعت حسین کی شخصیت پاکستان میں وفاق، جمہوریت اور قومی وحدت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت اور رہنما ان کی ذہانت، تدبر اور اصول پسندی کے معترف ہیں۔ آج بھی جب ملکی سیاست کسی بحران کا شکار ہوتی ہے تو نگاہیں چوہدری شجاعت حسین کی طرف اُٹھتی ہیں، اور ان سے رہنمائی کی توقع کی جاتی ہے۔ موجودہ حکومت بھی ان کے مشوروں کی روشنی میں قائم ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو اتفاق، اتحاد اور قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چوہدری شجاعت حسین کے تجربے اور مشوروں سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ ملک کو استحکام، خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
آخر میں، ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے پاک فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بہادر فوج ملک کی سلامتی اور امن کی ضامن ہے۔ انہوں نے چوہدری شجاعت حسین کی صحت اور وطنِ عزیز کے لیے دعا کی۔
Trending
- گاڑیوں کے سائیڈ شیشے چوری کرنے والا خاندانی گروہ گرفتار
- ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔