بیجنگ : 2025 کی بین الاقوامی بنیادی سائنس کانفرنس میں شرکت کرنے والے ٹورنگ ایوارڈ یافتہ پروفیسر رابرٹ ٹارجن کمپیوٹر سائنس کے میدان میں ایک نامورشخصیت ہیں، جنہیں 2025 کے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ برائے بنیادی سائنس سے نوازا گیا۔ سی ایم جی کے لیے ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ چین نہ صرف عالمی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، بلکہ وہ بنیادی سائنس کے تمام شعبوں میں بھی اپنا اثرورسوخ بڑھا رہا ہے۔چین نے بنیادی سائنس کی ترقی کو طویل المدتی اسٹریٹجک ترجیح بنایا ہے جو کہ واقعی قابل تعریف ہے۔انھوں نےاپنی گفتگو میں مستقبل کے حوالے سے چین میں مزید ترقی کی امید کا اظہار کیا۔رابرٹ ٹارجن نے خیال ظاہر کیا کہ چین کی جانب سے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو تیز کرنے کے عمل میں، سب سے زیادہ مسابقتی فائدہ مستقل طویل مدتی حکمت عملی کی حمایت، مضبوط بنیادوں پر قائم سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کا تعلیمی نظام، اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے پرجوش طلباء میں ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی طلباء انتہائی تربیت یافتہ ہیں اور ان کے علم کا ذخیرہ کافی وسیع ہے۔ انہیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیسے اس علم کے ذخیرے کو دریافت کرنے، تجسس کو ابھارنے اور اصل بصیرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ خواہ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے چینی طلباء ہوں یا دنیا کے کسی اور مقام پر ملنے والے چینی طلباء، ان کا معیار مجھ پر بتدریج گہرا تاثر چھوڑ رہا ہے۔
***
Trending
- خیبر پختونخوا، سرکاری ملازمین کی غیر ملکی سے شادی، پیشگی اجازت لازمی قرار
- سر سید یونیورسٹی کے سمیر حسین قومی جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ مقرر
- راجپال یادیو نے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’اوم شانتی اوم‘ میں کام کیوں نہیں کیا؟
- بچے سے زیادتی کے مجرم کو 14سال قید بامشقت، 10 لاکھ جرمانہ عائد
- حیدرآباد کنگزمین کے کھلاڑیوں، سپورٹ اسٹاف کا ایس ایس یو ہیڈ کوارٹر کا دورہ
- اداکارہ تریشا کرشنن کے گھر کو بم سے اڑانے کی دھمکی
- دکاندار ایل پی جی کی من مانی قیمتیں وصول کرنے لگے
- بجلی صارفین ہوشیار! شام 5 سے رات 1 بجے کے دوران لوڈشیڈنگ کا نیا شیڈول آگیا
- ایران کا جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ
- سعودی ائیرلائن کی مبینہ غفلت، 500سے زائد پاکستانی مسافروں کا سامان ریاض میں رہ گیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔