بیجنگ : دنیا بھر میں خوراک کا 45 واں عالمی دن منایا گیا۔ اسی مناسبت سے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں کروڑوں لوگ اب بھی بھوک کے خطرے سے دوچار ہیں اور غذائی تحفظ کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔ ورلڈ فوڈ پرائز فاؤنڈیشن کے اعزازی چیئرمین کینتھ کوئن نے چائنا میڈیا گروپ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ یہ ایک قابل ذکر کامیابی ہے کہ چین اتنے طویل عرصے تک مستحکم خوراک کی پیداوار کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔اپنے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کر نے کے ساتھ ساتھ چین نے ہمیشہ کھلا رویہ برقرار رکھتے ہوئے عالمی فوڈ گورننس میں حصہ لیا ہے۔ کینتھ کوئن کا خیال ہے کہ چین کی عملی مثال نے عالمی سطح پر قابلِ تقلید حکمرانی کا نمونہ فراہم کیا ہے،اور چین دنیا کے غذائی تحفظ کے مسائل کو حل کرنے میں کلیدی قوت ہے۔واضح رہے کہ کینتھ کوئن نے 2025 کی عالمی زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی انوویشن کانفرنس میں شرکت کے لیے چین کا خصوصی دورہ کیا ہے۔
Trending
- اسکردو کی پرواز کی 6 گھنٹے بعد کراچی واپسی پر مسافر سیخ پا، معروف گلوکار سوار تھے
- غزہ میں فوجی کارروائیوں پر دستاویزی فلم کی اسرائیل میں پذیرائی، نیتن یاہو برہم
- کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا
- راولپنڈی، 12 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
- پاکستان، سری لنکا کے درمیان تیسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا
- سیف علی خان کی انسٹاگرام پر باضابطہ انٹری، پہلی پوسٹ میں کیا شیئر کیا؟
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی