اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ق) اسلام آباد کیپٹل کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات انجینئر مطیع اللہ خان نے ایک اہم قومی مسئلے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں پر نظرثانی اور ان کے ممکنہ منسوخی ایک نہایت حساس اور دور رس نتائج کی حامل پیش رفت ہے، جسے قومی مفاد اور عوام کی فلاح کے لیے استعمال کرتا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا مقصد صرف مالی کفایت شعاری تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اصل ہدف عوام کو سستی، پائیدار اور قابل اعتماد بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
انجینئر مطیع اللہ خان نے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور غیر ضروری مالی بوجھ کے خاتمے کو عوامی فلاح و بہبود کے لیے کلیدی حیثیت دیتی ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر آئی پی پیز کے معاہدوں میں ترمیم یا منسوخی سے قومی خزانے کو خاطر خواہ مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے تو اس کا براہ راست فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے تاکہ ان کے اثرات عوام کی زندگیوں میں عملی طور پر محسوس کیے جا سکیں۔
ذرائع کے مطابق آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی سے ممکنہ طور پر 3600 ارب روپے کی بچت متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں تقریبا 40 آئی پی پیز کے ساتھ ایسے معاہدے کیے گئے جن کے تحت بجلی کی پیداوار نہ ہونے کے باوجود کیپسٹی چارجز کی مد میں بھاری رقوم ادا کی گئیں، جو قومی خزانے پر غیر ضروری بوجھ کا باعث بنیں۔