اسلام آباد(نمائندہ اپنا وطن ) پاکستان میں پہلی بار رومنیائی زبان و ثقافت کے مطالعے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ تاریخی اقدام رومانیہ کے سفارت خانے، رومنیائی زبان کے ادارے اور نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز (NUML) کے تعاون سے عمل میں آیا ہے، جس سے جنوبی ایشیا اور وسطی و مشرقی یورپ کے درمیان ایک نئے علمی اور ثقافتی پل کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

تقریب کا انعقاد NUML اسلام آباد میں ہوا، جس میں رومانیہ کے سفیرڈاکٹر ڈین اسٹوینیسکو ، NUML کے ریکٹر میجر جنرل شاہد محمود کیانی، فیکلٹی آف لینگویجز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر جمیل اصغر جمی، ڈائریکٹر جنرل بریگیڈیئر محمد رفیق خان، ہیڈ آف نیشنل اینڈ انٹرنیشنل لنکیجز آفس ڈاکٹر ہما حیات خان، یونیورسٹی کے اساتذہ، رومانیائی تارکین وطن کے نمائندے اور سفارتی حلقوں کے ارکان نے شرکت کی۔

یہ پروگرام رومنیائی زبان، ادب اور ثقافت کے مطالعے کو پاکستان کے معروف کثیر لسانی تعلیمی ماحول میں متعارف کراتا ہے۔ NUML اس اقدام کے ذریعے ملک کی پہلی یونیورسٹی بن گئی ہے جو رومنیائی زبان کے کورسز فراہم کرے گی، اور اس طرح تعلیمی اور ثقافتی مکالمے کو فروغ دے گی۔
رومنیائی زبان کے ادارے کے اشتراک اور رومانیہ کے سفارت خانے کی حمایت سے تیار کردہ اس پروگرام میں زبان کی تربیت کے ساتھ ساتھ ادب، ترجمہ، تاریخ اور ثقافتی مطالعے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے طلبہ نہ صرف رومنیائی زبان سیکھیں گے بلکہ ایک ایسے ثقافتی منظرنامے کا بھی مطالعہ کریں گے جو تاریخی سنگ میل، یادداشت، تخلیقی صلاحیت اور استقامت سے مزین ہے۔
تقریب کے دوران رومانیہ کے سفارت خانے نے NUML کو کتابوں کا ایک مجموعہ بھی پیش کیا، جس میں رومانیائی اور انگریزی زبان میں رومانیہ کی ثقافت، تاریخ، تہذیب، فن اور ادب پر مبنی کتابیں شامل ہیں۔ یہ عطیہ رومانیائی ثقافتی ادارے اور رومانیہ کی وزارتِ خارجہ کی حمایت سے کیا گیا۔رومانیائی مطالعات کے پروگرام کی سربراہی ڈاکٹر اوانا ارچیسے کریں گی، جو فلولوجی میں ڈاکٹریٹ کی حامل ہیں اور موازنہ ادب، کلچرل اسٹڈیز اور ہسپانوی، مشرقی، پری کولمبین اور عربی ادبیات میں مہارت رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر ارچیسے نے اسپین اور امریکہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں تعلیم دی ہے اور NUML اسلام آباد میں رومانیائی مطالعات کے نئے مرکز کے قیام کے لیے منتخب کی گئی ہیں۔رومنیائی زبان کے کورسز کے تعلیمی آغاز سے پاکستان اور رومانیہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات مضبوط ہونے اور ثقافتی و علمی تبادلے میں اضافہ متوقع ہے۔ سفیر ڈاکٹر ڈین اسٹوینیسکو نے رومانیائی زبان کے ادارے، رومانیائی ثقافتی ادارے اور وزارتِ خارجہ رومانیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس اہم پروجیکٹ کو حقیقت میں بدلنے میں بھرپور تعاون کیا۔