ٹوکیو:جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جاپان کے شیمانے پریفیکچر میں منعقدہ نام نہاد “تاکیشیما ڈے” تقریب کے خلاف سخت احتجاج کیا اور جاپان پر زور دیا کہ وہ اس تقریب کو فوری طور پر ختم کر دے۔ اسی دن، جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایشیا پیسیفک بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کم سانگ ہون نے بھی جنوبی کوریا میں جاپانی سفارت خانے کے سینئر سفارتکار مسٹر ماتسوو ہیروٹاکا کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی نشاندہی کی کہ جزیرہ ڈوکڈو (جو جاپان میں جزیرہ تاکیشیما کے نام سے جانا جاتا ہے) تاریخ، جغرافیہ اور بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے واضح طور پر جنوبی کوریا کا اٹوٹ حصہ ہے، اور یہ کہ جاپانی حکومت کو فوری طور پرجزیرہ ڈوکڈو سے متعلق اپنے غیر معقول اوربےبنیاد دعوؤں کو بند کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ جزیرہ ڈوکڈو جزیرہ نما کوریا کے مشرقی پانیوں میں واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 0.18 مربع کلومیٹر ہے۔ جنوبی کوریا، شمالی کوریا اور جاپان سبھی اس جزیرے پر خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن موجودہ وقت میں یہ جزیرہ عملی طور پر جنوبی کوریا کے زیرِ کنٹرول ہے۔
Trending
- سونے کی قیمت میں کمی
- عمان کے لیماہ علاقے کے قریب آئل ٹینکر میزائل کی زد میں آگیا
- کراچی: دورانِ ڈکیتی فائرنگ کا نشانہ بننے والے ڈاکٹر آکاش کی آخری رسومات ادا
- بیوی پر تشدد کا مقدمہ: یوٹیوبر علی حیدر آبادی کی ضمانت میں توسیع
- کراچی میں کتابوں کی فروخت کے ذریعے لوٹنے والا گروہ سرگرم ، کیسے واردات کرتا ہے ۔۔؟ جانیے
- امریکا میں مقتول فلسطینی نژاد بچے کے نام سے سڑک منسوب
- عمران ہاشمی سے ملائی جانے والی سحر ہاشمی کا رد عمل سامنے آگیا
- فیفا ورلڈ کپ سے گھر تک: ایرلنگ ہالینڈ کے ہاتھوں میں تھامے ’ریکون‘ کی کہانی سامنے آ گئی
- بھارت نہیں چاہتا کہ پاکستانی مواد کو نیٹ فلکس پر رسائی ملے، فیصل قریشی
- عالمی شہرت یافتہ گلوکار طفیل خان سنجرانی دل کے عارضے کی وجہ سے ہسپتال داخل