ٹوکیو:جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جاپان کے شیمانے پریفیکچر میں منعقدہ نام نہاد “تاکیشیما ڈے” تقریب کے خلاف سخت احتجاج کیا اور جاپان پر زور دیا کہ وہ اس تقریب کو فوری طور پر ختم کر دے۔ اسی دن، جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایشیا پیسیفک بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کم سانگ ہون نے بھی جنوبی کوریا میں جاپانی سفارت خانے کے سینئر سفارتکار مسٹر ماتسوو ہیروٹاکا کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی نشاندہی کی کہ جزیرہ ڈوکڈو (جو جاپان میں جزیرہ تاکیشیما کے نام سے جانا جاتا ہے) تاریخ، جغرافیہ اور بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے واضح طور پر جنوبی کوریا کا اٹوٹ حصہ ہے، اور یہ کہ جاپانی حکومت کو فوری طور پرجزیرہ ڈوکڈو سے متعلق اپنے غیر معقول اوربےبنیاد دعوؤں کو بند کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ جزیرہ ڈوکڈو جزیرہ نما کوریا کے مشرقی پانیوں میں واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 0.18 مربع کلومیٹر ہے۔ جنوبی کوریا، شمالی کوریا اور جاپان سبھی اس جزیرے پر خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن موجودہ وقت میں یہ جزیرہ عملی طور پر جنوبی کوریا کے زیرِ کنٹرول ہے۔
Trending
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ