ٹوکیو:جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے جاپان کے شیمانے پریفیکچر میں منعقدہ نام نہاد "تاکیشیما ڈے” تقریب کے خلاف سخت احتجاج کیا اور جاپان پر زور دیا کہ وہ اس تقریب کو فوری طور پر ختم کر دے۔ اسی دن، جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے ایشیا پیسیفک بیورو کے ڈائریکٹر جنرل کم سانگ ہون نے بھی جنوبی کوریا میں جاپانی سفارت خانے کے سینئر سفارتکار مسٹر ماتسوو ہیروٹاکا کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔ جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے اپنے ترجمان کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں اس بات کی نشاندہی کی کہ جزیرہ ڈوکڈو (جو جاپان میں جزیرہ تاکیشیما کے نام سے جانا جاتا ہے) تاریخ، جغرافیہ اور بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے واضح طور پر جنوبی کوریا کا اٹوٹ حصہ ہے، اور یہ کہ جاپانی حکومت کو فوری طور پرجزیرہ ڈوکڈو سے متعلق اپنے غیر معقول اوربےبنیاد دعوؤں کو بند کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ جزیرہ ڈوکڈو جزیرہ نما کوریا کے مشرقی پانیوں میں واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 0.18 مربع کلومیٹر ہے۔ جنوبی کوریا، شمالی کوریا اور جاپان سبھی اس جزیرے پر خودمختاری کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن موجودہ وقت میں یہ جزیرہ عملی طور پر جنوبی کوریا کے زیرِ کنٹرول ہے۔
Trending
- گاڑیوں کے سائیڈ شیشے چوری کرنے والا خاندانی گروہ گرفتار
- ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف