کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم باہر ہو گئے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے میچز پر بھی نظر رکھنا پڑے گی۔ ہمارا چانس ختم نہیں ہوا اور بس دعا کرنا پڑے گی۔
لاہور قلندرز کے خلاف میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعود شکیل کا کہنا تھا کہ میچ ہماری گرفت میں آچکا تھا لیکن رائلی روسو آؤٹ ہو گئے، رائلی کا پلان تھا کہ آخر میں شاہین آفریدی اور حارث رؤف کے اوورز ہیں ریورس ہو سکتا ہے۔ اس لیے وہ زیادہ رنز کرنا چاہ رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں آخری میچ جیتنا ہوگا، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم باہر ہو گئے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے میچز پر بھی نظر رکھنا پڑے گی۔ ہمارا چانس ختم نہیں ہوا اور بس دعا کرنا پڑے گی۔
سعود شکیل کا کہنا تھا کہ ہمیں کمبی نیشن میں مسئلہ ہوا، اتنی تبدیلیاں ہمیں اس سے پہلے نہیں کرنا پڑیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور قلندرز کے بولرز یارکرز میں مہارت رکھتے ہیں، رائلی روسو کا یہی تھا کہ آخری اوورز میں زیادہ رنز نہ کرنا پڑیں۔ ہم نے بھی آخری تین اوورز میں رنز نہیں کرنے دیے تھے۔
کپتان کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے کہا کہ ہم گروپ کی حیثیت سے سیٹل نہیں ہو سکے تھے، ہم اوپننگ پئیر اچھا حاصل نہ کر سکے، اسی طرح چھ اور سات نمبر پر بھی مشکل ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ میں قطعی طور پر مطمئین نہیں ہوں میں نے اس کے لئے بہت تیاری کی تھی۔
سعود شکیل نے کہا کہ ابرار احمد سے ہر مشکل وقت سے ہم نے بولنگ کرائی ہے ابرار احمد کو بیٹرز محتاط ہو کر کھیلے اس لیے وکٹوں کا کالم خالی نظر آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ عثمان طارق کو اب بیٹرز نے سمجھنا شروع کر دیا ہے محتاط ہو کر کھیلتے ہیں انہیں اپنی نئی چیزیں لانا ہوں گی۔
PNP
Comments are closed.