پولیس نے ڈاکٹر سارنگ قتل کیس میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی
کراچی میں دو روز قبل شارع فیصل پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے قتل ہونے والے ڈاکٹر سارنگ کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ پولیس نے قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی، حملہ آوروں نے واردات کیلئے ملیر سے رینٹ اے کار کی گاڑی لی تھی، واردات میں ملوث دو ملزمان کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سارنگ اہلیہ کے ساتھ جس رکشے میں تھے اس کے ڈرائیور کو تلاش کیا جا رہا ہے، بیوہ کا ابتدائی بیان ریکارڈ کیا جا چکا ہے، دشمنی یا لین دین کا معاملہ تا حال سامنے نہیں آیا۔
مقتول کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر سارنگ گلستان جوہر اور کورنگی کے دو مختلف اسپتال میں نوکری کرتے تھے۔
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ورثاء نے تدفین کے بعد اب تک تفتیش میں معاونت فراہم نہیں کی۔
خیال رہے کہ اس سے قبل کراچی میں میٹروپول کے قریب ڈاکٹر سارنگ پر فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا، آرٹلری میدان تھانے میں ڈاکٹر سارنگ کے بھائی سرمد حسین کے بھائی کی مدعیت میں درج مقدمے میں قتل کی دفعہ شامل کی گئی ہے۔
مقدمے کے متن میں کہا گیا کہ ڈاکٹر سارنگ اپنی اہلیہ کے ہمراہ رکشے میں سوار تھے اور میٹروپول کے قریب انھیں ایک گاڑی نے روکا، جس میں سے ایک مسلح شخص اترا، اترنے کے بعد اس نے رکشے میں سوار ڈاکٹر سارنگ کو بھی باہر اترنے کا کہا اور باہر اترتے ہی ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی، ایک گولی ڈاکٹر سارنگ کے سینے میں لگی جو آر پار ہوگئی جبکہ تین گولیاں ٹانگوں پر لگیں۔
ایف آئی آر میں مزید بتایا گیا کہ ان کی اہلیہ فوری طور پر رکشے میں ہی انھیں جناح اسپتال لے گئیں، جہاں وہ دوران علاج انتقال کرگئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا ہے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
PNP
Comments are closed.