by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لاہور کے علاقے اچھرہ میں 3 معصوم بہن بھائیوں کی ہلاکت کا معمہ حل، سگی ماں نےہی ما رڈالا

لاہور( پی این پی)صوبائی دارالحکومت کے علاقے اچھرہ میں حقیقی ماں نے گھریلو ناچاقی پر تین بچوں کو بیدردی سے ذبح کر دیا ،

ماں نے پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا ،ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کا اپنے ہاتھوں سے گلہ کاٹنے کا اعتراف کر لیا ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز اچھرہ کے ایک گھر میں تین بچوں کو قتل کئے جانے کی اطلاع پر پولیس اور فرانزک ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں ۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ والدین گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئے ہوئے تھے جب واپس گھر آئے تو بچوں کی گردنیں کٹی ہوئی تھیں۔مقتول بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ ام حبیبہ کے ناموںسے ہوئی ۔ اطلاع ملنے پر پولیس کے اعلیٰ افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرنے کے عمل کی نگرانی کی جبکہ اس دوران اہل خانہ اور قرب و جوار سے لوگوں کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سفاک قاتل کی فوری گرفتاری کا حکم دیا جبکہ آئی جی پنجاب عبدالکریم نے تہرے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے رپورٹ طلب کر تے ہوئے قتل میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا اور کہا کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔پولیس نے بچوں کے والد رمضان ،والدہ ردا ، چچا اسد اور داد ی سے تحقیقات کیں۔ بتایا گیا کہ رمضان اور ردا کی نو سال قبل شادی ہوئی تھی اور گھر میں اکثر و بیشتر جھگڑا رہتا تھا ۔

بتایا گیا کہ ایک رات قبل بھی رداد کا ساس سے شدید جھگڑا ہوا تھا ، رمضان کا بھائی گھر آیا تو اس نے اپنی بھابھی کو برا بھلا کہا ۔ پولیس نے تمام سی سی ٹی وی کی فوٹیجز تحویل میں لے کر ان کا تجزیہ شروع کر دیا ہے ۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ ماں کا کہنا ہے کہ خاوند بچوں کے حوالے سے اکثر طعنے مارتا تھا، طعنوں سے تنگ آکر بچوں کو مارنے سے پہلے اس نے اپنے آپ کو مارنے کا منصوبہ بنایالیکن پھر سوچا اگر وہ مر گئی تو والد بچوں کو گھر سے نکال دے گا۔ مبینہ طور پر خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ خاوند اسے لوگوں سے ناجائز تعلقات کے لیے بھی مجبور کرتا تھا۔ڈی آئی جی انوسٹی گیشن ذیشان رضا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ اچھرہ میں 3 معصوم بہن بھائیوں کے اندوہناک قتل کا معمہ حل ہو گیا ہے اور بچوں کی والدہ حراست میںلیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب عبد الکریم نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا،ملزمہ نے تیز دھار آلہ سے 5سالہ مومنہ بتول، 4سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امہ حبیبہ کو بے دردی سے قتل کیا۔ ذیشان رضا نے بتایا کہ انویسٹی گیشن اور آپریشنز ونگ کی مشترکہ کوشش سے بہت کم وقت میں ملزمہ کی گرفتاری ممکن ہوئی،انویسٹی گیشن اور آپریشنز کی ٹیمز نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمہ کو حراست میں لیا ،فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے اہم شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ڈ ی آئی جی کے مطابق ملزمہ نے ابتدائی تفتیش میں گھریلو ناچاکی کا اعتراف کر لیا،

مقتول بچوں کی لاشیں پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کی گئی ہیں،ملزمہ کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کر کے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔ڈی آئی جی ذیشان رضا کے مطابق ملزمہ نے بتایا کہ اس کے کردار پر الزام لگایاگیا،کرائم سین پر والدہ کے بیانات میں تضاد تھا،شواہد چھپانے کی کوشش کی گئی ،واش روم سے بھی خون کے دھبے ملے ہیں،ملزمہ نے ہی ساری منصوبہ بندی کی ،فرانزک اور ٹیکنیکل شواہد کو جمع کیا،بہت مختصر وقت میں کیس کی تفتیش مکمل کی ،بیانات اور شواہد کی مدد سے پتہ چلا کہ بچوں کی قاتل ماں ہے۔

PNP

Comments are closed.