قومی ادارہ صحت کی جانب سے ہیٹ،سن اسٹروک سے بچاؤ اور علاج کے لیے ایڈوائزری جاری
اسلام آباد(پی این پی)قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) کے تحت سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) نے ملک بھر میں جاری
شدید گرمی کی لہر کے پیش نظر ہیٹ،سن اسٹروک سے بچاؤ اور اس کے مؤثر علاج کے لیے ایک اہم ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ایڈوائزری کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید گرمی کی لہروں کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں گرمی سے متعلق بیماریوں اور اموات کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ہیٹ اسٹروک ایک جان لیوا طبی ایمرجنسی ہے جس میں جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے اور فوری طبی امداد نہ ملنے کی صورت میں مستقل معذوری یا موت واقع ہو سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق ہیٹ اسٹروک کی علامات میں شدید پسینہ آنا یا پسینہ بند ہو جانا، جلد کا گرم اور سرخ ہو جانا، شدید سر درد، کمزوری، چکر آنا، ذہنی الجھن، بے ربط گفتگو اور جسمانی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ شامل ہیں۔ بچے، بزرگ افراد، حاملہ خواتین، کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدور، کھلاڑی اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد زیادہ خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔سی ڈی سی نے ہدایت کی ہے کہ ہیٹ اسٹروک کے مریض کو فوری طور پر سایہ دار جگہ منتقل کیا جائے، اضافی کپڑے اتارے جائیں، ٹھنڈے پانی یا گیلی پٹیوں سے جسم کو ٹھنڈا کیا جائے اور فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔ شدید متاثرہ افراد کو ہسپتال منتقل کر کے وریدی سیال (IV Fluids) فراہم کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔عوام کو مشورہ دیا گیا کہ شدید گرمی کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے، غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کیا جائے،
ہلکے رنگ اور ڈھیلے کپڑے پہنے جائیں، سر کو ٹوپی یا کپڑے سے ڈھانپا جائے اور کیفین یا الکحل والے مشروبات سے اجتناب کیا جائے۔ایڈوائزری میں صوبائی اور ضلعی صحت حکام کو ہدایت کی گئی کہ گرمی کی شدت کے دوران فرسٹ ایڈ پوائنٹس قائم کیے جائیں، ضروری طبی سامان اور ادویات کی دستیابی یقینی بنائی جائے اور ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔قومی ادارہ صحت نے عوام سے اپیل کی کہ گرمی کی شدت کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ہیٹ اسٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
PNP
Comments are closed.