مردان میں ماربل کی کان میں پیش آنے والے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے میں 17 روز بعد ایک مزدور کا زندہ نکل آنا کسی معجزے سے کم نہیں۔
ریسکیو 1122 کی انتھک جدوجہد سے یہ کامیابی ممکن ہوئی، ریسکیو آپریشن ایک امتحان سے کم نہ تھا۔ بڑا پہاڑ، بارش اور دھماکوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ نے اس آپریشن کو مزید مشکل بنادیا تھا
31 مارچ کو مردان کے علاقے پلوڈھیری میں ماربل کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں پر قیامت ٹوٹ پڑی،جب لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پہاڑ سے بڑے بڑے پتھر گرنے لگے۔
اس افسوسناک واقعے میں 8 مزدور ملبے تلے دب کر جاں بحق جبکہ 3 زخمی ہو گئے،اور ایک مزدور لاپتہ ہو گیا تھا۔
ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے 8جاں بحق اور زخمی مزدوروں کو پہلے ہی دن نکال لیا،تاہم لاپتہ مزدور کی تلاش کے لیے طویل اور صبر آزما آپریشن جاری رکھا گیا۔
بالآخر 16 اپریل کو17 دن بعدسرنگ میں پھنسے اس مزدور کو زندہ حالت میں نکال لیا گیا،جس نے ناصرف اہلِ علاقہ بلکہ پوری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔
ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر آپریشنز عمران خان کا کہنا ہے کہ 8 افراد کی موت پہلے ہی دن ہوگئی تھی جس کا رنج تھا لیکن ایک زندگی کو بچانے کے لیے انتہائی مشکل اور طویل آپریشن شروع کیا گیا تھا، جس میں 50 افسران اور اہلکاروں نے دن رات کام کیا۔
ڈائریکٹر آپریشنز نے مزید بتایا کہ یہ کوئی آسان آپریشن نہیں تھا، پہاڑ بہت بڑا تھا، بارش سے پھسلن تھی، مائن میں کیےگئے دھماکوں سے پتھر سرک رہے تھے لیکن ہم نے حوصلہ نہیں ہارا۔
مردان میں پیش آنے والے اس واقعے نے جہاں کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کیا وہیں ایک مزدور کی معجزانہ طور پر زندگی بچنے سے امید کی ایک نئی کرن بھی جاگی ہے۔
PNP
Comments are closed.