بریانی کے بعد تربوز کھانے سے میاں، بیوی اور 2 بچیوں کی موت کی اصل وجہ سامنے آگئی
اسلام آباد (نیوزڈیسک) بھارت میں بریانی اور تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی ہے،
جہاں فرانزک رپورٹ نے موت کی اصل وجہ واضح کر دی۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 45 سالہ عبداللہ عبدالقادر، ان کی 35 سالہ اہلیہ نسرین اور دو بیٹیاں 16 سالہ عائشہ اور 13 سالہ زینب نے ہفتے کی رات اہلِ خانہ کے ساتھ بریانی کھائی تھی۔ بعد ازاں رات گئے انہوں نے تربوز بھی کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد ان کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہوگئی۔اطلاعات کے مطابق صبح سویرے چاروں افراد کو شدید قے کی شکایت ہوئی، جس پر پہلے مقامی ڈاکٹر سے علاج کروایا گیا، تاہم حالت بگڑنے پر انہیں دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں دورانِ علاج سب جان کی بازی ہار گئے۔
ابتدائی طور پر اس واقعے کو فوڈ پوائزننگ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن بعد میں آنے والی فرانزک رپورٹ نے چونکا دینے والے انکشافات کیے۔ رپورٹ کے مطابق خاندان کے افراد کی موت تربوز سے پیدا ہونے والی عام فوڈ پوائزننگ نہیں بلکہ چوہے مار زہر کے باعث ہوئی۔تحقیقات میں لاشوں اور تربوز کے نمونوں سے زنک فاسفائٹ نامی زہریلا کیمیکل برآمد ہوا، جو عام طور پر چوہے مار ادویات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے پوسٹ مارٹم کے دوران اندرونی اعضا میں سبز رنگت بھی نوٹ کی، جو زہر خورانی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔تفتیشی حکام اب اس پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ زہریلا مادہ اتفاقاً تربوز میں شامل ہوا یا کسی نے جان بوجھ کر اسے استعمال کیا۔
PNP
Comments are closed.