by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کراچی پولیس کا اعلی افسر اور اے این ایف اہلکار انمول پنکی کا مدد گار نکلا

کراچی(پی این پی) کراچی پولیس کا اعلی افسر اور اے این ایف اہلکار ڈرگ کوئین کے سہولت کار نکلے،

جو کروڑوں روپے رشوت کے عوض ملزمہ کو سنگین مقدمات سے بچاتے رہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میںڈرگ کوئین انمول عرف پنکی کیس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر موجود مبینہ سہولت کاروں کا چونکا دینے والا کچا چٹھا سامنے آیا۔تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ سائوتھ کے اعلی پولیس افسر نے ماضی میں درج مقدمات میں مبینہ طور پر پنکی کی مدد کی اور ڈسٹرکٹ سائوتھ پولیس نے کمزور تفتیش اور ناقص کیسز تیار کیے، جس کے باعث پنکی کو نو مقدمات میں عدالت سے بریت ملی۔ماضی میں جب پنکی کے منشیات سپلائی کرنے والے رائیڈرز گرفتار ہوئے اور ان کیسز میں پنکی کا نام بھی آیا، تو پولیس نے جان بوجھ کر کیس کمزور بنایا جس کے باعث رائیڈرز بھی رہا ہو گئے اور پنکی بھی صاف بچ نکلی۔پنکی کی پیشی میں جلد بازی کے معاملے پر ساتھ زون کے ایک اعلی پولیس افسر کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ملزمہ پنکی نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وفاقی انسدادِ منشیات فورس کے انسپکٹر احسان نے اس کے بھائی ناصر کو کئی بار حراست میں لیا،

لیکن ہر بار مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیا۔ ملزمہ کے مطابق، اے این ایف اہلکاروں کو اب تک تقریبا ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے تک کی رشوت دی جا چکی ہے۔ملزمہ کے مطابق سابق شوہر رانا ناصر کے بھائی رانا منصور ایڈووکیٹ اور رانا شہزور عرف سلطان کراچی میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور رانا ناصر منشیات وکلا کے دفاتر اور چیمبرز میں رکھتا تھا۔ملزمہ نے انکشاف کیا کہ درخشاں، گذری اور بوٹ بیسن تھانوں کو لاکھوں روپے رشوت دی جاتی رہی ہے۔

PNP

Comments are closed.