by Rao Imran Suleman
Rao Nama

منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی

کراچی(پی این پی) منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی عدالت میں پیشی کے دوران پھٹ پڑی اور اپنے خلاف درج مقدمات، مبینہ تشدد، جبری حراست اور بعض اہم شخصیات کے نام لینے کے لیے دبائو ڈالے جانے سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کر دیے۔

دوسری جانب پولیس نے عدالت میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے اور میڈیا نمائندوں کو ملزمہ سے گفتگو کرنے سے روک دیا۔ہفتہ کومنشیات ڈیلر انمول عرف پنکی کو ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں دورانِ سماعت ملزمہ نے عدالت کے روبرو دعویٰ کیا کہ اسے گزشتہ 20 روز سے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، اس پر تشدد کیا گیا اور جھوٹے مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے انمول پنکی نے کہا کہ میرے ساتھ ظلم ہوا ہے، مجھے مارا گیا، مجھ پر بوریوں بھر کر منشیات ڈالی گئی اور زبردستی لوگوں کے نام کہلوائے جا رہے ہیں۔ ملزمہ کے مطابق 6 افراد اسے گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے اور 15 دن تک اپنے پاس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کیا گیا۔سماعت کے دوران جج نے ملزمہ کو پرسکون رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں، پانی پئیں، یہ سٹی کورٹ ہے، یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔ عدالت نے ملزمہ سے اس کا نام اور طبیعت سے متعلق استفسار بھی کیا۔انمول پنکی نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس پر 20 سے 25 مقدمات ڈالنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ سب کچھ قبول کرو، ورنہ تمہاری فیملی کو بھی اٹھا لیا جائے گا۔

اس نے الزام عائد کیا کہ بعض مخصوص افراد، جن میں بنی گالہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا نام بھی شامل ہے، ان کے نام لینے کے لیے دبا ئوڈالا جا رہا ہے۔ملزمہ نے کہا کہ مجھے کہا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کے نام ہم بتا رہے ہیں، وہی نام لو۔ اس نے مزید دعوی کیا کہ جس گھر سے اس کی گرفتاری ظاہر کی گئی، وہ اس کا گھر ہی نہیں تھا۔عدالت نے واضح کیا کہ اس وقت کوئی اقبالی بیان ریکارڈ نہیں کیا جا رہا، جبکہ تفتیشی افسر سے پرانے عدالتی احکامات طلب کرتے ہوئے سوال کیا گیا کہ اب تک ملزمہ سے کیا تفتیش کی گئی ہے۔بغدادی تھانے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ کے خلاف مزید 11 مقدمات درج کیے گئے ہیں اور اس کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کافی عرصے سے مطلوب تھی اور اس کے خلاف مختلف کیسز میں تفتیش جاری ہے۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ انمول پنکی کو عدالت منتقل کرنے کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔

ملزمہ کو بغدادی تھانے سے 2 قیدی وینز اور 9 پولیس موبائلوں پر مشتمل بھاری نفری کے حصار میں عدالت لایا گیا۔ عدالت کے اطراف بھی سخت سیکیورٹی تعینات رہی اور کسی غیر متعلقہ شخص کو قریب آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔پولیس حکام نے میڈیا نمائندوں کو بھی ملزمہ سے بات کرنے سے روک دیا، جبکہ پیشی کے دوران ملزمہ کا چہرہ مکمل طور پر ڈھانپا گیا تھا اور اسے عبایہ پہنا کر عدالت میں پیش کیا گیا۔یاد رہے کہ انمول عرف پنکی پر بین الصوبائی سطح پر منشیات اسمگلنگ اور فروخت کے منظم نیٹ ورک کو چلانے کا الزام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

PNP

Comments are closed.