پیپلز پارٹی پھنس چکی ہے؟
کالم:مکالمہ۔
کالمنگار۔محمد نعیم قریشی
پاکستانی سیاست میں آئینی ترامیم ہمیشہ صرف قانونی نکات نہیں رہیں بلکہ طاقت، اختیار اور ریاستی ڈھانچے کی جنگ کا حصہ بنی رہیں۔ آج جب 28ویں آئینی ترمیم کی بازگشت سنائی دے رہی ہے تو سوال صرف یہ نہیں کہ ایک نئی ترمیم آئے گی یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ملک دوبارہ مرکزیت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے؟ کیا اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دیے گئے اختیارات واپس لینے کی تیاری ہو رہی ہے؟ اور کیا اس پورے کھیل میں پیپلز پارٹی ایک بار پھر طاقتور حلقوں کے سیاسی جال میں پھنس چکی ہے؟
سیاسی منظرنامے کو غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک خاص ماحول بنایا جا رہا ہے۔ پہلے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ، کردار کشی، متنازع مقدمات اور مخصوص شخصیات کے گرد شور پیدا کیا جاتا ہے۔ پنکی جیسے معاملات کو اچھال کر فضا کو اتنا گرم کیا جاتا ہے کہ اصل سیاسی ایجنڈا پس منظر میں چلا جائے۔ پھر اچانک “قومی مفاد” اور “ریاستی استحکام” کے نام پر بڑی آئینی تبدیلیوں کی بات شروع کر دی جاتی ہے۔ یہی طریقہ ماضی میں بھی استعمال ہوا۔
پاکستان کی تاریخ اس قسم کی جبری یا دباؤ کے تحت ہونے والی ترامیم سے بھری پڑی ہے۔ 1958 میں مارشل لا لگا تو آئین ہی لپیٹ دیا گیا۔ پھر جنرل ایوب خان نے 1962 کا آئین متعارف کروایا جس میں صدارتی نظام کے ذریعے تمام طاقت مرکز میں جمع کر دی گئی۔ صوبائی خودمختاری کمزور ہوئی اور فیصلے چند ہاتھوں تک محدود ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ مشرقی پاکستان میں احساسِ محرومی بڑھتا گیا اور بالآخر ملک دو لخت ہو گیا۔
اسی طرح جنرل ضیاء الحق نے 8ویں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام کو کمزور کر کے صدر کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار دیا۔ اس ترمیم نے منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم رکھا اور جمہوریت کو مسلسل دباؤ میں رکھا۔
پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں 17ویں ترمیم آئی جس نے فوجی حکمران کے اختیارات کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔ ہر دور میں دلیل ایک ہی دی گئی کہ “ملکی استحکام” کے لیے یہ سب ضروری ہے، مگر حقیقت میں طاقت کا توازن عوام سے دور اور چند اداروں کی طرف منتقل ہوتا گیا۔
ایسے ماحول میں 2010 کی اٹھارویں ترمیم ایک بڑی آئینی پیش رفت سمجھی گئی۔ اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو تعلیم، صحت، ثقافت اور دیگر شعبوں میں اختیارات دیے گئے۔ مشترکہ مفادات کونسل کو مضبوط کیا گیا اور مرکز کی اجارہ داری میں کمی لائی گئی۔ پیپلز پارٹی نے اسے اپنی سب سے بڑی سیاسی کامیابی قرار دیا کیونکہ اس ترمیم نے وفاق کو نسبتاً متوازن بنایا۔
اب اگر واقعی 28ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات واپس مرکز کو منتقل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو یہ صرف ایک آئینی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ اٹھارویں ترمیم کے فلسفے کو کمزور کرنے کی کوشش ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پیپلز پارٹی اس دباؤ کو برداشت کر پائے گی یا پھر اقتدار کے خواب میں ایک بڑی آئینی قربانی دے دے گی؟
بلاول بھٹو زرداری کو وزارتِ عظمیٰ تک پہنچانے کی خواہش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ اگلے سیاسی سیٹ اپ میں اگر اسے اقتدار کا بڑا حصہ ملتا ہے تو وہ وفاقی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کر سکتی ہے۔ مگر پاکستانی سیاست کی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقتور حلقے کسی جماعت کو مکمل آزادی سے نہیں کھیلنے دیتے۔ اکثر جماعتیں وقتی سیاسی فائدے کے لیے ایسے معاہدے کر لیتی ہیں جن کی قیمت بعد میں پوری قوم کو ادا کرنا پڑتی ہے۔
یہی خدشہ آج دوبارہ جنم لے رہا ہے۔ پہلے سیاسی دباؤ بڑھایا جائے گا، پھر میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ماحول بنایا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ “ملک بحران میں ہے، اس لیے غیر معمولی اقدامات ضروری ہیں”۔ اور آخر میں سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا کر ایسی آئینی تبدیلی منظور کروانے کی کوشش ہوگی جسے بعد میں جمہوری اتفاق رائے کا نام دیا جائے گا۔
یہاں سب سے اہم سوال پیپلز پارٹی کے لیے ہے۔ کیا وہ واقعی اٹھارویں ترمیم کے دفاع پر کھڑی رہے گی یا اقتدار کی سیاست اسے خاموش سمجھوتے کی طرف لے جائے گی؟ اگر پارٹی نے اپنے ہی آئینی ورثے پر کمپرومائز کیا تو سندھ سمیت چھوٹے صوبوں میں اس کی سیاسی ساکھ شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اٹھارویں ترمیم صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ وفاقی اکائیوں کے اعتماد کی علامت ہے۔
پاکستان کی تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ جب بھی آئین کو طاقت کے زور پر موڑا گیا، وقتی طور پر تو شاید نظام چل گیا مگر طویل مدت میں ریاست کمزور ہوئی۔ صوبائی حقوق دبانے سے محرومیاں بڑھتی ہیں، سیاسی انجینئرنگ سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے اور مصنوعی استحکام زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔
آج اگر واقعی 28ویں ترمیم کا کھیل شروع ہو چکا ہے تو قوم کو صرف سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ آئینی حقیقتوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ آئین صرف حکمرانوں کا معاہدہ نہیں بلکہ وفاق کی بنیاد ہوتا ہے۔ اور جب بنیادوں کے ساتھ کھیل شروع ہو جائے تو پھر صرف حکومتیں نہیں، پورا نظام ہلنا شروع ہو جاتا ہے۔
نوٹ: قارئین اپنی رائے ایس ایم ایس یا واٹس ایپ کے ذریعے ارسال کر سکتے ہیں۔#
00923003508630
کالم نگار: محمد نعیم قریشی
naeemqureshiwriter@gmail.com