by Rao Imran Suleman
Rao Nama

10ویں جماعت کے طلبہ سے جون اور جولائی کی فیس وصول کرنے والے اسکولوں کیخلاف کارروائی کا اعلان


---فائل فوٹو
—فائل فوٹو

سندھ حکومت نے ایسے نجی اسکولوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران دسویں جماعت کے طلبہ سے جون اور جولائی 2026ء کی فیسیں وصول کرلی ہیں۔

 ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ کی ایڈیشنل رجسٹرار پروفیسر رفیعہ ملاح نے اسکول کے سربراہوں کے نام ایک گشتی مراسلے میں کہا ہے کہ یہ شکایات مسلسل موصول ہو رہی ہیں کہ نجی اسکولوں نے ان طلبہ سے جو اس سال (2026) دسویں کلاس کے امتحانات میں شریک ہوئے ہیں ان سے اپریل مئی، جون اور جولائی کی فیس غیر قانونی طور پر وصول کر لی گئی ہے۔

10ویں جماعت کے طلبہ سے جون اور جولائی کی فیس وصول کرنے والے اسکولوں کیخلاف کارروائی کا اعلان

مراسلے میں کہا گیا کہ اسکول انتظامیہ اس غیر قانونی فیس وصولی کے حوالے سے یہ مؤقف پیش کر رہی ہے کہ طلبہ عملی امتحانات جو کہ متعلقہ اسکولوں میں اپریل اور مئی میں منعقد ہو رہے ہیں شرکت کر رہے ہیں، لہٰذا یہ فیس وصولی اس مقصد کے لیے ہے جو کہ سراسر غیر قانونی ہے کیونکہ عملی امتحانات کی فیس طلبہ کی ماہانہ فیس کا حصہ ہوتی ہیں۔

 رفیعہ ملاح نے مزید کہا کہ کچھ اسکولوں کی انتظامیہ دسویں کی جون اور جولائی کی فیس وصولی کے جواز کے طور پر یہ مؤقف بھی پیش کر رہی ہیں کہ اسکول نے اپنا تعلیمی سال ماہ اگست 2025ء سے شروع کیا تھا لہذا وہ جولائی 2026ء تک فیس کی وصولی کا اختیار رکھتے ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ باور کرایا جاتا ہے کہ ایسے اسکول جنہوں نے اپنا تعلیمی سال اگست سے شروع کیا تھا انہوں نے اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کی سراسر خلاف ورزی کی ہے لہٰذا جولائی تک کی فیس کی وصولی سراسر غیر قانونی ہے۔

 ڈائریکٹوریٹ نے اس سلسلے میں ایک خط جو کہ مورخہ 22 اپریل 2026ء کو جاری کیا گیا تھا تمام اسکولز کو واضح ہدایات جاری کی تھیں کہ وہ ماہ اپریل سے  جولائی 2026ء تک کی تمام فیس طلبہ کو واپس کریں بدیگر صورت ان اسکولوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ بھی کہا گیا کہ ان تمام اسکولوں کے انتظامیہ کو ایک بار پھر واضح ہدایت جاری کی جاتی ہے کہ وہ فی الفور میٹرک کے طلبہ سے جنہوں نے جون جولائی کی فیس غیر قانونی طور پر وصول کی ہے وہ فوری واپس کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ان اسکولوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ان پر جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی رجسٹریشن معطل اور منسوخ کر کے متعلقہ تعلیمی بورڈ کو ضابطہ کی کارروائی کے لیے اطلاع کر دی جائے گی، جبکہ انسپیکشن کمیٹیوں کو بھی ہدایت کی گئی ہیں کہ وہ ایسے اسکولوں کا دورہ کر کے اپنی رپورٹ پیش کریں تاکہ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جاسکے۔


PNP

Comments are closed.