by Rao Imran Suleman
Rao Nama

امریکی ۔ایرانی کشمکش میں پستا ہوا خلیج

0

20 مئی 2026

امریکی ۔ایرانی کشمکش میں پستا ہوا خلیج۔

کالم نگار: ابن امام

 

موجودہ عالمی حالات میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھرشدید کشیدگی کا مرکز بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ خلیجی ریاستوں، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی تناؤ نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالا ہے بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔

خلیجی ممالکجیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطرنے بظاہر یہ واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین، خصوصاً ہوائی اڈوں، کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔اور مذکورہ ریاستوں نے اس امر کو یقینی بنایا یہی وجہ ہے کہ ایران اپنے اوپر ہونے والے حملوں میں خلیجی ریاستوں کے استعمال کے کوئی شواہد پیش نہیں کر سکا اصل میں اس موقف کا مقصد خود کو براہِ راست جنگی تنازع سے دور رکھنا اور اپنے انفراسٹرکچر کو ممکنہ جوابی حملوں سے بچانا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر ممکنہ یا محدود نوعیت کے حملوں کے لیے جدید فضائی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔ ان میں خاص طور پر ایسے طیارے شامل ہیں جو فضا میں ہی جنگی جہازوں کو ایندھن فراہم کرتے ہیں، یعنی ( Boeing KC-135 Stratotanker اور KC-46 Pegasus وغیرہ ان کی مدد سے جنگی طیارے بغیر کسی زمینی اڈے کے طویل فاصلے طے کر سکتے ہیں، جس سے خلیجی اڈوں کی ضرورت نہ رہی
ایران کا مؤقف اس کے برعکس زیادہ جارحانہ دکھائی دیتا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک براہِ راست حملوں میں شریک نہیں، مگر ان کی سرزمین پر امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی انہیں ایک "ممکنہ ہدف” بناتی ہے۔ اسی بنیاد پر ایران نے بعض مواقع پر خلیجی خطے میں موجود امریکی تنصیبات اور تیل کے ذخائر کو نشانہ بنایا یا نشانہ

بنانے کی دھمکی دی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: اگر خلیجی ممالک نے اپنی زمین استعمال کرنے سے روک دیا ہے، تو پھر ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا کہاں تک جائز یا منطقی ہے؟ بظاہر ایران کے پاس اس بات کے واضح اور ناقابلِ تردید شواہد موجود نہیں کہ انہی خلیجی اڈوں سے اس پر حملے ہو رہے ہیں۔ اس کے باوجود تیل کے کنوؤں، پاور پلانٹس، پانی کے ذخائر اور حتیٰ کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا ایک غیر ذمہ دارانہ اور خطرناک پیش رفت ہے طھر بھی ہمارے رے کچھ سمجھدار لوگ شرق اوسط سے اٹھنے والے شعلوں کو اس آنکھ سے ملاحظہ فرمارہے ہیں جیسے وہ شیکاگو یا واشنگٹن سے اٹھ رہے ہیں جناب سارا خلیج جل کر خاکستر ہو جائے اس میں امریکہ کا کیا نقصان ہے ؟؟؟۔
پاکستان سمیت کئی ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستانی عسکری و سیاسی قیادت نے اس کشیدگی کو غیر ضروری اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے، اور یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر کوئی براہِ راست فریق ہے تو جواب بھی اسی کو دیا جانا چاہیے، نہ کہ تیسرے ممالک کو اس جنگ میںگھسیٹا جائے۔

اس تمام صورتحال کا ایک معاشی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر خلیجی ممالک کے تیل کے ذخائر اور سپلائی لائنز متاثر ہوتی ہیں، تو عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کم ہو سکتی ہے، جس سے قیمتیں بڑھیں گی۔ اس تناظر میں بعض تجزیہ کار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا اس کشیدگی کے پیچھے توانائی کی عالمی سیاست بھی کارفرما ہے؟ کیا خلیجی تیل کی سپلائی کو متاثر کر کے دیگر طاقتیں، خصوصاً امریکہ، اپنی توانائی کی برتری کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں؟

آخرکار، یہ صورتحال ایک پیچیدہ جیوپولیٹیکل کھیل کی عکاسی کرتی ہے جہاں ہر فریق اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے، مگر اس کا خمیازہ پورے خطے اور دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام فریقین تحمل، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کریں، تاکہ ایک بڑی جنگ کے خطرے کو ٹالا جائے۔۔

ابنِ امام

Leave A Reply

Your email address will not be published.