by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سینیٹ کمیٹی اجلاس میں پنکی کو اصل نام سے پکارنے کی ہدایت

چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے داخلہ فیصل سلیم رحمان نے منشیات کیس میں گرفتار پنکی کو اصل نام سے پکارنے کی ہدایت کردی۔

اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی سندھ، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نارکوٹکس حکام شریک ہوئے۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ آزاد خان نے انمول عرف پنکی سے متعلقہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو بریفنگ دی۔

انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ اب تک انمول عرف پنکی کے ایک اکاؤنٹ کی تفصیل آئی ہے، جس میں 90 لاکھ روپے ہیں۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ نے اجلاس میں بتایا کہ ملزمہ انمول عرف پنکی نے کسی کی شناخت بھی چوری کرنے کی کوشش کی، وہ مقدمہ بھی بنائیں گے۔

آزاد خان نے مزید کہا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور این سی سی آئی اے سے بھی تفتیش میں مدد لی جارہی ہے۔

دوران بریفنگ چیئرمین فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ آپ ملزمہ کو ان کے اصل نام سے پکاریں پنکی نہ کہیں، کون کون سے لوگ انمول کے نیٹ ورک سے جڑے ہیں، ساری کڑیاں جوڑیں۔

اس موقع پر سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ انمول کیس پر ہمیں کچھ نہیں بولنا چاہیے کیونکہ معاملہ زیر التوا ہے، قائمہ کمیٹی کا انمول کیس پر بریفنگ لینا کیس پر اثر انداز ہونے کے مترادف ہو گا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پاکستان میں بدمعاش صرف سرکار ہے، اختیار بھی صرف اس کو ہے۔

شرکاء کو ڈی جی اے این ایف سندھ نے بتایا کہ انمول عرف پنکی ابھی پولیس کی تحویل میں ہے، حوالگی ہوگی تو ہی ہم کچھ کہہ سکیں گے۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ نے کہا کہ 12 مئی کو کراچی پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارہ انمول کیس پر کام کررہا تھا، پنکی تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کرتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایک منشیات کے عادی شخص کی موت بھی انکی کی سپلائی کردہ منشیات سے ہوئی، انمول عرف پنکی کو جوائنٹ آپریشن میں گرفتار کیا گیا۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پنکی کے معاملے پر دو مرتبہ ریمانڈ حاصل کر چکے ہیں، پنکی 2008ء میں ماڈلنگ کا کیریئر بنانے لاہور گئی اور منشیات کے کاروبار میں ملوث ہوئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پنکی نے پہلے ایک وکیل اور پھر پولیس افسر سے شادی کی، ملزمہ اےاین ایف کے ایک کیس میں اشتہاری ہے، وہ لاہور میں 5 مقدمات میں اشتہاری ہے۔



PNP

Comments are closed.