by Rao Imran Suleman
Rao Nama

دنیا نئی ڈیجیٹل غلامی کی طرف بڑھ سکتی ہے؟ پوپ کا بڑا انتباہ

پوپ کی وارننگ نے مصنوعی ذہانت پر نئی بحث چھیڑ دی

0

ویٹی کن / نیوز ڈیسک | 26 مئی 2026

پوپ لیو چہاردہم نے اپنی پاپائیت کی پہلی بڑی مذہبی و فکری دستاویز جاری کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت (AI) کے بے قابو استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے لیے مؤثر اخلاقی اور قانونی حدود مقرر نہ کی گئیں تو دنیا نئی قسم کی ’’ڈیجیٹل غلامی‘‘ کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ویٹی کن میں پیش کی گئی اس اہم دستاویز کا عنوان "عظیم انسانیت” رکھا گیا، جس میں پوپ نے کیتھولک چرچ کے ماضی میں غلامی سے متعلق کردار کا بھی ذکر کیا اور اس پر معذرت کا اظہار کیا۔

پوپ لیو چہاردہم نے لکھا کہ غلامی کے دور میں انسانوں کو جن مشکلات، تکالیف اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا، اس پر گہرا دکھ محسوس ہوتا ہے، اور چرچ اس حوالے سے مخلصانہ معذرت پیش کرتا ہے۔

اپنی دستاویز میں انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے بے شمار امکانات اور مواقع رکھتی ہے، تاہم مناسب اخلاقی اور قانونی نگرانی نہ ہونے کی صورت میں یہ انسانی استحصال، جنگ اور سماجی ناانصافی جیسے مسائل کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔

پوپ نے واضح کیا کہ انہوں نے ’’غیر مسلح‘‘ جیسا سخت لفظ جان بوجھ کر استعمال کیا کیونکہ موجودہ حالات ایسے مؤثر الفاظ کا تقاضا کرتے ہیں جو عالمی توجہ حاصل کرسکیں۔ ان کے مطابق دنیا ایک ایسے اخلاقی موڑ پر کھڑی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کا غلط استعمال نئی ڈیجیٹل غلامیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی تیاری اور استعمال کے عمل میں بھی انسانی استحصال کا خطرہ موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت احتیاط نہ کی گئی تو دنیا ماضی کی غلامی کی طرح ایک نئے استحصالی نظام کو معمول کا حصہ سمجھنے لگے گی۔

پوپ لیو چہاردہم نے جنگوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خودکار ہتھیار اور AI سے چلنے والے جنگی نظام انسانی کنٹرول کو کمزور کرسکتے ہیں، جس سے جنگ کے اخلاقی پہلو مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئی الگورتھم جنگ کو اخلاقی نہیں بنا سکتا بلکہ مصنوعی ذہانت جنگ کو مزید غیر انسانی اور بے رحم بنا سکتی ہے کیونکہ اس سے تشدد کے فیصلے آسان اور انسان محض اعداد و شمار تک محدود ہوسکتے ہیں۔

پوپ نے سیاست اور سوشل میڈیا میں AI کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جعلی تصاویر، ویڈیوز اور گمراہ کن مواد عوامی رائے پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔

انہوں نے AI ڈویلپرز کے لیے خصوصی پیغام میں کہا کہ ہر ڈیزائن اور پروگرامنگ فیصلہ دراصل انسانیت کے بارے میں ایک نظریے کی عکاسی کرتا ہے، اس لیے ٹیکنالوجی تیار کرنے والوں پر اخلاقی اور سماجی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق پوپ کی یہ دستاویز مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال، خودکار ہتھیاروں، ڈیجیٹل نگرانی اور عالمی ضوابط سے متعلق مباحث پر گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.