امریکی سینیٹر لنزے گراہم کے انتقال سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ سے کی گئی گفتگو سامنے آگئی
اسلا م آباد (پی این پی) امریکی ریپبلکن سینیٹر اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی رفیق لنزے گراہم کی وفات سے چند گھنٹے قبل صدر ٹرمپ سے ہونے والی ان کی آخری ٹیلیفونک گفتگو کی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق ہفتے کی شب لنزے گراہم نے صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے حالیہ دورۂ یوکرین سے متعلق بریفنگ دی۔
انہوں نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار کیے گئے بل پر بھی گفتگو کی، جسے وہ جلد امریکی سینیٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔رپورٹ کے مطابق اس دوران صدر ٹرمپ نے گراہم کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایک اور حملے کے بعد امریکا ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ایگزیوس کے مطابق اس گفتگو کے کچھ دیر بعد گراہم نے ایک قریبی شخص سے کہا کہ وہ طبیعت میں کچھ خرابی محسوس کر رہے ہیں۔ جب انہیں فوری طور پر اسپتال جانے کا مشورہ دیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اتوار کی صبح این بی سی کے پروگرام “میٹ دی پریس” میں شرکت کے بعد ڈاکٹر سے رجوع کریں گے۔انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، “میں ابھی نہیں مر سکتا، مجھے روس پر پابندیوں کا بل منظور کرانا ہے، ایران سے متعلق معاملات نمٹانے ہیں اور سعودی عرب و اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے بھی کام کرنا ہے۔” تاہم اس گفتگو کے چند گھنٹوں بعد ان کے انتقال کی خبر سامنے آگئی۔دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں تصدیق کی کہ انہوں نے سینیٹر گراہم سے ان کی وفات سے چند گھنٹے پہلے بات کی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق گراہم صرف تھکے ہوئے محسوس ہو رہے تھے اور بظاہر ان کی صحت معمول کے مطابق دکھائی دے رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ان کی وفات اچانک ہوئی، جس پر انہیں شدید افسوس ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق گراہم کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ ان کا انتقال اچانک طبیعت بگڑنے کے باعث ہوا۔واضح رہے کہ لنزے گراہم چند روز قبل یوکرین کے دورے پر گئے تھے، جہاں انہوں نے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات بھی کی تھی۔لنزے گراہم پہلی مرتبہ 2003 میں امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے اور اس کے بعد مسلسل کامیاب ہوتے رہے۔ انہیں امریکی خارجہ پالیسی کے بااثر رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا اور وہ کئی اہم عالمی معاملات میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہونے کے باعث وہ قومی سلامتی، خارجہ امور اور خصوصاً ایران سے متعلق امریکی پالیسی پر مشاورت کرنے والی نمایاں شخصیات میں شامل تھے۔
PNP
Comments are closed.