ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی خبروں کی تردید
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے مبینہ استعفے سے متعلق خبروں نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا ادارے “ایران انٹرنیشنل” نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر پزشکیان نے اپنا استعفا رہبرِ اعلیٰ کے دفتر کو ارسال کر دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ملک کے اہم معاملات میں صدارتی ادارے کے محدود کردار اور پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مبینہ استعفے میں صدر پزشکیان نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو بڑے قومی فیصلوں کے عمل سے دور رکھا جا رہا ہے، جس کے باعث وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔
دوسری جانب ایرانی صدارتی دفتر نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ استعفے سے متعلق گردش کرنے والی تمام خبریں محض افواہیں ہیں اور ان میں کوئی صداقت موجود نہیں۔
میکسیکو میں ایرانی سفارت خانے نے بھی ایک بیان میں واضح کیا کہ صدر پزشکیان کے استعفے کی خبریں درست نہیں ہیں۔ اسی طرح آئی آر جی سی سے منسلک خبر رساں ادارے تسنیم نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ صدر بدستور اپنے عہدے پر موجود ہیں اور معمول کے مطابق سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
صدارتی دفتر کے شعبہ اطلاعات کے نائب سربراہ سید مہدی طباطبائی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان خبروں کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض غیر ملکی ذرائع ابلاغ حقائق کے بجائے قیاس آرائیوں کو خبر بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر پزشکیان عوامی خدمت کے مشن پر قائم ہیں اور اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق استعفے سے متعلق خبریں ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
PNP
Comments are closed.