by Rao Imran Suleman
Rao Nama

فلم ’کالاہرن‘ کے پروڈیوسر نے سلمان خان کا لیگل نوٹس کیمرے کے سامنے پھاڑ دیا

بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی جانب سے بھیجے گئے لیگل نوٹس پر فلم ’کالاہرن‘ کے پروڈیوسر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے وہ نوٹس کیمرے کے سامنے پھاڑ دیا، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں فلم کا ایک پوسٹر جاری کیا گیا تھا جس میں ایک شخص کو بندوق کے ساتھ دکھایا گیا ہے جبکہ اس کے ہاتھ میں پہنا ہوا بریسلٹ بھی اسی طرز کا تھا جو عام طور پر سلمان خان سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اسی پوسٹر میں اعلان کیا گیا تھا کہ فلم کا ٹیزر 20 جون کو ریلیز کیا جائے گا۔

اس صورتحال کے بعد سلمان خان کی جانب سے فلم سازوں کو لیگل نوٹس ارسال کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ فلم کے تمام پوسٹرز اور تشہیری مواد فوری طور پر ہٹا دیے جائیں۔ نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کے ایک پرانے کیس سے متاثر ہے، جس سے ان کے شخصی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، ان کی ساکھ متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور زیرِ سماعت مقدمے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے اس نوٹس کو دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد انہیں خوفزدہ کرنا اور شہرت و اثر و رسوخ کے ذریعے خاموش کرانا ہے۔

امیت جانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فلم کے اعلان کے بعد سے انہیں سلمان خان کے مداحوں اور ایک مبینہ ڈی کمپنی کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی موصول ہو رہی ہیں۔

اسی تنازع کے دوران ایک ویڈیو بیان میں امیت جانی نے کیمرے کے سامنے آ کر سلمان خان کا لیگل نوٹس پھاڑ دیا اور کہا کہ ’’میں اس نوٹس کا کیا جواب دوں؟ یہ رہا آپ کے نوٹس کا جواب‘‘۔

Shocking ⚠️#KalaHiran producer rips up #SalmanKhan's legal notice and issues a direct challenge:

"Consider it answered. Send whoever you want." 😲

pic.twitter.com/UxXXXrcP0j
— GAURAV (@Gaurav_HRX) June 4, 2026

واضح رہے کہ 1998 میں سلمان خان اور دیگر فنکاروں پر جودھپور میں فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک نایاب کالے ہرن کے شکار کا الزام لگا تھا، جس پر بشنوئی کمیونٹی نے ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ سلمان خان کو اس کیس میں گرفتار بھی کیا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں ضمانت مل گئی۔

تقریباً دو دہائیوں بعد ٹرائل کورٹ نے انہیں پانچ سال قید کی سزا سنائی، تاہم سیشن کورٹ نے بعد میں انہیں ضمانت دے دی۔ 2022 میں راجستھان ہائی کورٹ نے کیس کی منتقلی کی درخواست منظور کی، اور یہ مقدمہ تاحال زیرِ سماعت ہے۔

اسی معاملے کے پس منظر میں بشنوئی گینگ کی جانب سے سلمان خان پر مبینہ طور پر قاتلانہ حملوں کی کوششوں کی خبریں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔

PNP

Comments are closed.