امریکا نے ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنا دیا، ایران کا جوابی حملہ
خلیج میں کشیدگی عروج پر، امریکی اور ایرانی افواج متحرک
تہران/واشنگٹن، 6 جون 2026
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی فوج نے ایران کے ساحلی علاقوں گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی مرکزی کمان (CENTCOM) کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی سمت مبینہ طور پر داغے گئے چار خودکش ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا گیا، جس کے بعد بحری آمد و رفت کو درپیش فوری خطرات کے پیش نظر گوروک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
سینٹکام کا کہنا ہے کہ ایران نے خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون بھی داغے، جنہیں فضائی دفاعی نظام کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا۔ امریکی فوج کے مطابق ایران کے سات بیلسٹک میزائلوں میں سے چھ کو راستے میں تباہ کر دیا گیا جبکہ ساتواں اپنے ہدف تک نہ پہنچ سکا۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے چار آئل ٹینکروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔ ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کیا جا سکتا ہے اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب موجود امریکی بحری جہازوں کی موجودگی پر وارننگ فائر بھی کیے گئے۔
ادھر کویت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی "کونا” نے مسلح افواج کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام حملہ آور میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے میں مصروف رہا۔ بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بھی خطرے کے سائرن بجانے اور ملک بھر میں فضائی انتباہ جاری کرنے کی تصدیق کی ہے۔
علاوہ ازیں امریکی فوج نے بحرِ ہند میں "ڈاوینا” نامی ایک بغیر پرچم والے تیل بردار جہاز کو روک کر اس کی تلاشی لینے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مذکورہ جہاز پابندیوں کی زد میں تھا۔
تازہ فوجی کارروائیوں نے آبنائے ہرمز کے گرد سیکیورٹی صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے، جبکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارت پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔