ایران-اسرائیل کشیدگی: آذربائیجان میں اسرائیلی خفیہ سرگرمیوں کے دعوے، باکو کی سخت تردید
بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران اسرائیل نے خطے کے مختلف ممالک میں خفیہ فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات قائم کر رکھی تھیں، جن میں آذربائیجان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس اور خصوصی آپریشنز سے وابستہ اہلکار ایران کی سرحد سے متصل آذربائیجانی علاقوں میں سرگرم رہے، جہاں سے نگرانی، معلومات کے حصول اور ڈرون آپریشنز انجام دیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مبینہ سرگرمیوں نے اسرائیل کو ایران کی مختلف سرحدی سمتوں تک رسائی اور نگرانی کی اضافی صلاحیت فراہم کی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آذربائیجان میں موجود مبینہ تنصیبات ایک وسیع خفیہ نیٹ ورک کا حصہ تھیں، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اس کی موجودگی عراق، متحدہ عرب امارات اور صومالی لینڈ سمیت دیگر مقامات پر بھی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ان مراکز کا ابتدائی مقصد ہنگامی امدادی کارروائیوں کی معاونت تھا، تاہم بعد میں انہیں انٹیلی جنس اور عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
آذربائیجان کی میڈیا ڈویلپمنٹ ایجنسی نے بھی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا اور کہا کہ ایسی اطلاعات خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الریاستی تعلقات کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔
اس معاملے پر اسرائیلی حکومت یا فوج کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جس کے باعث رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔
PNP
Comments are closed.