ریو ڈی جنیرو : چین کے وزیر اعظم لی چھیانگ نے ریو ڈی جنیرو میں 17 ویں برکس سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دنیا ایک صدی کی تیز تبدیلیوں سے گزر رہی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور نظم و نسق کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔چینی صدر شی جن پھنگ کی جانب سے پیش کردہ وسیع مشاورت، مشترکہ تعمیر اور اشتراک پر مبنی عالمی حکمرانی کے تصور نے اس کی قدر اور عملی اہمیت مزید واضح کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برکس ممالک کو گلوبل ساؤتھ کے "صف اول” دستے کی حیثیت سے خودمختاری کی پاسداری کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور اتفاق رائے پیدا کرنے اوریکجہتی حاصل کرنے میں مزید کوششیں کرنی ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنا اور ابھرتے ہوئے شعبوں کے ترقیاتی امکانات کو بروئے کار لانا ضروری ہے۔اس سلسلے میں رواں سال چین چین-برکس نیو کوالٹی پروڈکٹویٹی ریسرچ سینٹر اور نئی صنعتوں کے لئے برکس "سنہری بگلا” ایکسیلینس اسکالرشپ قائم کرے گا تاکہ برکس ممالک کو صنعت اور ٹیلی مواصلات سمیت دیگر شعبوں میں باصلاحیت افراد کی تربیت میں مدد ملے۔چینی وزیر اعظم نے کہا کہ چین برکس ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہے تاکہ عالمی حکمرانی کو زیادہ منصفانہ ، معقول ، موثر اور منظم سمت میں فروغ دیا جاسکے۔
Trending
- امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
- سابق ملکہ حسن اور ماڈل اداکارہ کی پُراسرار موت؛ جج ساس گرفتار
- صدر ٹرمپ کی عمان کو دھمکی سے خود امریکی بھی حیران ہیں، سی این این
- کراچی: بفرزون کے قریب شاپنگ سینٹر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- PINK کنسرٹ فار کیورز کو فنڈز کی حیران کن رقم اکٹھا کرنے میں مدد کرتا ہے۔
- A big honor for Hania Aamir, her name included in Forbes Asia’s ’30 Under 30′ list
- کم پیٹراس نے چونکا دینے والے ‘ڈیٹنگ کے تجربات’ کے بارے میں بات کی۔